ملفوظات (جلد 6) — Page 76
کو اَمر سمجھ کر بجالاوے تو اس کا ثواب ہوگا۔اسی طرح عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ(النّسآء:۲۰) اَمر کی بجاآوری سے ثواب ہوتا ہے لیکن اگر ریا کاری سے نماز بھی ادا کرے تو پھر اس کے لیے ویل ہے۔۱ احیاءِ دین کا سلسلہ اس وقت اسلام جس چیز کا نام ہے اس میں فرق آگیا ہے۔تمام اخلاقِ ذمیمہ بھر گئے ہیں اور وہ اخلاص جس کا ذکر مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (البینۃ:۶) میں ہوا ہے آسمان پر اُٹھ گیا ہے۔۲ خدا کے ساتھ صدق، وفاداری، اخلاص، محبت اور خدا پر توکّل کالعدم ہوگئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سر سے ان قوتوں کو زندہ کرے وہ خدا جو ہمیشہ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا(الـحدید:۱۸)کرتا رہاہے اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لیے کئی راہیں اختیار کی گئی ہیں۔ایک طرف مامور کو بھیج دیا ہے جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے۔دوسری طرف علوم وفنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے اب وہ وحشیانہ حالت سکھوںکے زمانہ کی سی نہیں رہی اور لوگ سمجھنے لگے ہیں۔ایک طرف اتمامِ حجّت کے لیے آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے۔چنانچہ جب کتاب نزول المسیح چھپ کر شائع ہوگی۔اس وقت سب کو پتا لگ جائے گا کیونکہ اس میں ڈیڑھ سَو کے قریب ایسے نشانات لکھے ہیں جن کے ہزاروں لاکھوں گواہ موجود ہیں۔اورپھر قہری نشانات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے جن میں سے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اور اب جو اس شدت سے پھیل رہی ہے کہ کبھی گذشتہ نسلوں نے نہ دیکھی ہوگی اور بہت سے لوگ ہیں جو ان نشانات اور آیات سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں کوئی دن نہیں جاتا کہ لوگ بذریعہ خطوط یا خود حاضر ہوکر داخل بیعت نہیں ہوتے اگرچہ ۱ یہاں تک کی ڈائری الحکم سے لی گئی ہے۔اس کے بعد اسی تاریخ یعنی ۲۱ ؍فروری ۱۹۰۴ء کی ڈائری البدر سے درج کی جاتی ہے۔کیونکہ الحکم میں بقیہ ڈائری کہیں درج نہیں۔(مرتّب) ۲ الحکم جلد ۸ نمبر۸ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۸،۹