ملفوظات (جلد 6) — Page 68
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۸ جلد وقت پر امداد کی اور خود گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ ہمارا خاندان اول درجہ پر سرکار دولتمدار انگریزی کا خیر خواہ ہے ۱۸۵۷ء میں جبکہ کل رعیت سرکار انگریزی سے منحرف تھی اس وقت میرے والد غلام مرتضی صاحب نے بڑی خیر خواہی اور ہمدردی سے سرکار کی مدد کی پھر اب روحانی طور پر بھی ہم سے کوئی دقیقہ خیر خواہی اور ہمدردی کا فرو گذاشت نہیں ہوا لاکھ ہا روپیہ صرف کر کے ہم نے جہاد کے خیالات کو لوگوں کے دلوں سے محو کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ غیر ممالک میں بھی ہماری اس کوشش کے نمونہ موجود ہیں حتی کہ اسی لئے ہم کافر ٹھہرائے گئے کیا یہ تھوڑی سی بات ہے اگر انصاف اور غور ہو تو ہمارے سلسلہ پر کسی قسم کی بدظنی کرنا سچائی کا خون کرنا ہے ہماری اس خدمت کا سلسلہ چالیس پچاس برس سے برابر جاری ہے اور کسی قسم کا قصور مطلق نہیں ہوا غور نہ کرنی اور شے ہے مگر واقعات سے جو امر ثابت ہے وہ جھوٹ نہیں ہو سکتا وہ حق ہے۔ اے در بار شام) موسمی بلاؤں اور وباؤں کے تذکرہ پر فرمایا۔ وباؤں اور بلاؤں کے آنے کا سبب جب دنیا میں فسق و فجور پھیل جاتا ہے تو یہ و بائیں دنیا میں آتی ہیں۔ لوگ اللہ تعالیٰ سے لا پروا ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی پروا نہیں کرتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی ان شوخیوں اور شرارتوں میں کوئی فرق نہیں آیا، باوجود یکہ طاعون ایک کھا جانے والی آگ کی طرح بھڑک رہی ہے لیکن وہی مکر وفریب اور بدکاری کے بازار گرم ہیں بلکہ ان میں زیادتی ہی نظر آتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کیا مرضی ہے۔ اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ۔ پہلے زمانہ میں بھی جب لوگ گناہ سے باز نہیں آئے تو زمین کے تختے پلٹ دیئے گئے ہیں اور شہروں کے نام ونشان مٹا دیئے گئے ہیں۔ جب طاعون پہلے پہل پھیلا ہے تو لوگ سمجھتے تھے کہ یہ یونہی ایک اتفاقی بیماری ہے بہت جلد نابود ہو جائے گی لیکن جیسے یہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت جبکہ ابھی اس کا نام ونشان بھی نہ تھا مجھے اطلاع دی البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴