ملفوظات (جلد 6) — Page 68
۲۱؍فروری ۱۹۰۴ء (بوقتِ ظہر) ابتلا اور دشواریاں مقدمات کے تذکرہ پر حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ انبیاء ورسل کے سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں ہمیشہ مکروہات آجایا کرتے ہیں طرح طرح کی ناکامیاں پیش آتی ہیں۔زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا (الاحزاب:۱۲) سے معلوم ہوتاہے کہ حددرجہ کی ناکامی کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن یہ شکست اور ہزیمت نہیں ہوا کرتی۔ابتلا میں مامور کا صبر واستقلال اور جماعت کی استقامت اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے وہ خود فرماتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ(المجادلۃ:۲۲)لفظ كَتَبَ سنّت اللہ پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ خدا کی عادت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ضرور ہی غلبہ دیا کرتا ہے۔درمیانی دشواریاں کچھ شَے نہیں ہوتیں اگرچہ وہ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ (التوبۃ:۱۱۸) کا مصداق ہی کیوں نہ ہوں۔پنجاب میں جو خدمت گورنمنٹ کی ہم سے ہوئی ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ہے جسمانی طور پر بھی دیکھ لو کہ مایوسی کی حالت میں ہمارے خاندان نے وقت پر امداد کی اور خود گورنمنٹ نے ایک مدّت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ ہمارا خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولتمدار انگریزی کا خیر خواہ ہے ۱۸۵۷ء میں جبکہ کل رعیت سرکار انگریزی سے منحرف تھی اس وقت میرے والد غلام مرتضیٰ صاحب نے بڑی خیر خواہی اور ہمدردی سے سرکار کی مدد کی پھر اب روحانی طور پر بھی ہم سے کوئی دقیقہ خیر خواہی اور ہمدردی کا فرو گذاشت نہیں ہوا لاکھ ہا روپیہ صرف کرکے ہم نے جہاد کے خیالات کو لوگوں کے دلوں سے محو کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ غیر ممالک میں بھی ہماری اس کوشش کے نمونہ موجود ہیں حتی کہ اسی لئے ہم کافر ٹھہرائے گئے کیا یہ تھوڑی سی بات ہے اگر انصاف اور غور ہو تو ہمارے سلسلہ پر کسی قسم کی بد ظنّی کرنا سچائی کا خون کرنا ہے ہماری اس خدمت کا سلسلہ چالیس پچاس برس سے برابر جاری ہے اور کسی قسم کا قصور مطلق نہیں ہوا غور نہ کرنی اور شَے ہے مگر واقعات سے جو اَمر ثابت ہے وہ جھوٹ نہیں ہو سکتا وہ حق ہے۔۱