ملفوظات (جلد 6) — Page 67
سرکشی باقی نہیں رہ جاتی۔تقویٰ حاصل کرو کیونکہ تقویٰ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔متقی دنیا کی بَلائوں سے بچایا جاتا ہے۔خدا ان کا پر دہ پوش ہو جاتا ہے جب تک یہ طریق اختیار نہ کیا جاوے کچھ فائدہ نہیں۔ایسے لوگ میری بیعت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔۱ فائدہ ہو بھی تو کس طرح جب کہ ایک ظلم تو اندر ہی رہا۔اگر وہی جوش، رعونت، تکبّر، عُجب، ریا کاری، سریع الغضب ہونا باقی ہے جو دوسروں میں بھی ہے تو پھر فرق ہی کیا ہے؟۲ سعید اگر ایک بھی ہو اور وہ سارے گائوں میں ایک ہی ہوتو لوگ کرامت کی طرح اس سے متاثر ہوں گے۔نیک انسان جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نیکی اختیار کرتا ہے اس میں ایک ربّانی رُعب ہوتا ہے اور دلوں میں پڑ جاتا ہے کہ یہ باخدا ہے۔۳ یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے خدا تعالیٰ اپنی عظمت سے اس کو حصّہ دیتا ہے اور یہی طریق نیک بختی کا ہے۔پس یاد رکھو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں۴ میں بھائیوں کو دکھ دیناٹھیک نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع اخلاق کے مُتَمِّم ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ کے اخلاق کا قائم کیا ہے۔اس وقت بھی اگر وہی درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے۔پس دوسروں پر عیب نہ لگائو کیونکہ بعض اوقات انسان دوسرے پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے اگر وہ عیب اس میں نہیں لیکن اگر وہ عیب سچ مچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا سے ہے۔بہت سے آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر معاً ناپاک الزام لگا دیتے ہیں۔ان باتوں سے پرہیز کرو۔بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائو اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی کرو۔۱ ہمسایوں سے نیک سلوک کرو۔اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔۲ ۱ البدرمیں ہے۔’’بردباری اختیار کرو۔بیویوں سے عمدہ معاشرت کرو۔ہمسایوں سے نیک سلوک کرو۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ءصفحہ ۴ ) ۲ الحکم جلد ۸نمبر۸مورخہ ۱۰؍مارچ۱۹۰۴ء صفحہ ۷،۸