ملفوظات (جلد 6) — Page 66
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۶ جلد ششم سے سے نفس خراب ہو جاتا ہے اس سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ غرض یہ سب امور تقوی میں داخل ہیں اور اندرونی بیرونی امور میں تقوی سے کام لینے والا فرشتوں میں داخل کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کوئی سرکشی باقی نہیں رہ جاتی ۔ تقویٰ حاصل کرو کیونکہ تقویٰ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔ متقی دنیا کی بلاؤں سے بچایا جاتا ہے۔ خدا ان کا پردہ پوش ہو جاتا ہے جب تک یہ طریق اختیار نہ کیا جاوے کچھ فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ میری بیعت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ۔ فائدہ ہو بھی تو کس طرح جب کہ ایک ظلم تو اندر ہی رہا۔ اگر وہی جوش، رعونت ، تکبر ، محجب ، ریا کاری، سریع الغضب ہونا باقی ہے جو دوسروں میں بھی ہے تو پھر فرق ہی کیا ہے؟ کے سعید اگر ایک بھی ہو اور وہ سارے گاؤں میں ایک ہی ہو تو لوگ کرامت کی طرح اس سے متاثر ہوں گے۔ نیک انسان جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نیکی اختیار کرتا ہے اس میں ایک رہ ں ایک ربانی رعب ہوتا ہے اور دلوں میں پڑ جاتا ہے کہ یہ باخدا ہے۔ کے یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے خدا تعالیٰ اپنی عظمت سے اس کو حصہ دیتا ہے اور یہی طریق نیک بختی کا ہے۔ پس یا درکھو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے میں بھائیوں کو دکھ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جميع اخلاق کے متمم ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپ کے اخلاق کا قائم کیا ہے۔ اس وقت بھی اگر وہی درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے۔ پس دوسروں پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ ل البدر میں ہے۔ ” یا درکھو بیعت کا زبانی اقرار کچھ شے نہیں ہے اللہ تعالیٰ تزکیہ نفس چاہتا ہے ۔“ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) البدر سے ۔ اس لیے اپنے نفسوں میں تبدیلی کرو اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ حاصل کرو۔“ وو ( البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) البدر سے ۔ خواہ کیسی ہی دشمنی ہو رفتہ رفتہ سب خود بخود اس کے تابع ہو جاویں گے اور بجائے حقارت کے اس کی عظمت کرنے لگ جاویں گے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) ہے البدر سے۔ ”چھوٹی چھوٹی باتوں میں طول دینا اور بھائیوں کو رنج پہنچانا بہت بری بات ہے۔“