ملفوظات (جلد 6) — Page 66
اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرو مَیں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں باہم نزاعیں بھی ہوجاتی ہیں اور معمولی نزاع سے پھر ایک دوسرے کی عزّت پر حملہ کرنے لگتا ہے اور اپنے بھائی سے لڑتا ہے۔یہ بہت ہی نا مناسب حرکت ہے۔یہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو کیا حرج ہے۔بعض آدمی ذرا ذرا سی بات پر دوسرے کی ذلّت کا اقرار کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتے۔۱ ان باتوں سے پرہیز کرنا لازم ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستّار ہے۔پھر یہ کیوں اپنے بھائی پر رحم نہیں کرتا اور عفو اور پر دہ پوشی سے کام نہیں لیتا۔چاہیے کہ اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے اور اس کی عزّت وآبرو پر حملہ نہ کرے۔ایک چھوٹی سی کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک بادشاہ قرآن لکھا کرتا تھا ایک ملّا نے کہا کہ یہ آیت۲ غلط لکھی ہے بادشاہ نے اُس وقت اس آیت پر دائرہ کھینچ دیا کہ اس کو کاٹ دیا جائے گا۔جب وہ چلا گیا تو اُس دائر ہ کو کاٹ دیا جب بادشاہ سے پوچھا کہ کیوں کیا تو اس نے کہا کہ دراصل وہ غلطی پر تھا مگر میں نے اس وقت دائرہ کھینچ دیا کہ اس کی دلجوئی ہو جاوے۔۳ یہ بڑی رعونت کی جڑ، بیماری ہے کہ دوسرے کی خطا پکڑ کر اشتہار دے دیا جاوے۔۴ ایسے امور سے نفس خراب ہو جاتا ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔غرض یہ سب امور تقویٰ میں داخل ہیں اور اندرونی بیرونی امور میں تقویٰ سے کام لینے والا فرشتوں میں داخل کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کوئی ۱ البدر میں ہے۔’’یادرکھو بیعت کازبانی اقرار کچھ شَے نہیں ہے اللہ تعالیٰ تزکیہ نفس چاہتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۲ البدر سے۔’’ اس لیے اپنے نفسوں میں تبدیلی کرو اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ حاصل کرو۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۳ البدر سے۔’’ خواہ کیسی ہی دشمنی ہو رفتہ رفتہ سب خودبخود اس کے تابع ہو جاویں گے اور بجائے حقارت کے اس کی عظمت کرنے لگ جاویں گے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۴البدر سے۔’’ چھوٹی چھوٹی باتوں میں طول دینا اور بھائیوں کو رنج پہنچا نا بہت بُری بات ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۹مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴)