ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 63

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۳ جلد بد صحبت میں اپنا دن رات بسر کرتا ہے اور پھر دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! مجھے گناہ سے بچا ایسا شوخ انسان خدا تعالیٰ سے مسخری کرتا ہے اور اپنی جان پر ظلم ۔ اس سے اس کو کچھ فائدہ نہ ہوگا اور آخر یہ خیال ۔ کر کے کہ میری دعا سنی نہیں گئی وہ خدا سے بھی منکر ہو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ انسان بعض اوقات تدبیر سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن تدبیر پر کلی بھروسہ کرنا سخت نادانی اور جہالت ہے جب تک تدبیر کے ساتھ دعا نہ ہو کچھ نہیں اور دعا کے ساتھ تدبیر نہ ہو تو کچھ فائدہ نہیں جس کھڑکی کی راہ سے معصیت آتی ہے پہلے ضروری ہے کہ اس کھڑ کی کو بند کیا جاوے پھر نفس کی کشاکش کے لیے دعا کرتا رہے۔ اسی کے واسطے کہا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سبلنا (العنكبوت: ۷۰) اس میں کس قدر ہدایت تدابیر کو عمل میں لانے کے واسطے کی گئی ہیں تدابیر میں بھی خدا کو نہ چھوڑے دوسری طرف فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱ ) پس اگر انسان پورے تقویٰ کا طالب ہے تو تدبیر کرے اور دعا کرے دونوں کو جو بجالانے کا حق ہے بجالائے تو ایسی حالت میں خدا اس پر رحم کرے گا لیکن اگر ایک کرے گا اور دوسری کو چھوڑے گا تو محروم رہے گا۔ تقومی کے ثمرات انسان ایسے طریق سے تقوی پر قائم ہوتا ہے اور تقوی اللہ ہی ہر ایک عمل کی جڑ ہے جو اس سے خالی ہے وہ فاسق ہے۔ تقویٰ سے زینت اعمال پیدا ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے اور اسی کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کا ولی بن جاتا دو لے البدر سے۔ ” جو ذرائع معصیت کے ہیں ان کو ترک کرنا لازمی ہے ان ذرائع سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک کشاکش نفس میں رہتی ہے کہ اسے بار بار خیال اس بدی کے ارتکاب کا آتا ہے یہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ ایک عرصہ اس میں گزار چکا ہے اس سے نجات پانے کا ذریعہ دعا ہے۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) البدر سے ۔ جَاهَدُوا فِينَا کے یہی معنے ہیں کہ حصولِ تقویٰ کے لیے حتی الوسع تدابیر کو کام میں لاوے اور پھر دوسری جگہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: (۶۱) کہہ کر بتلا دیا کہ جب تدابیر کر چکو تو پھر خدا سے دعا مانگو وہ قبول ہوگی۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۳)