ملفوظات (جلد 6) — Page 60
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۰ جلد لا کر مولوی صاحب کے سامنے رکھ دی ۔ مولوی صاحب نے اسی وقت مجلس میں اس کے سامنے اس کی تعریف کی کہ دیکھو یہ بڑا نیک بخت انسان ہے اس نے ابھی اپنا گھر جنت میں بنالیا اور یہ ایسا ہے ویسا ہے۔ جب اس نے اپنی تعریف سنی تو اسی وقت گھر گیا اور جھٹ واپس آکر بآواز بلند اس نے کہا کہ مولوی صاحب اس روپے کے دینے میں مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ اصل میں یہ مال میری والدہ کا ہے اور میں اس کی بے اجازت لے آیا تھا لیکن اب وہ مطالبہ کرتی ہے۔ مولوی صاحب نے کہا اچھالے جاؤ۔ چنانچہ وہ شخص اسی وقت رو پید اٹھا کر لے گیا۔ یا تو لوگ اس کی تعریف کرتے تھے اور یا اسی وقت اس کی مذمت شروع کر دی کہ بڑا بیوقوف ہے۔ روپیہ لانے سے اوّل کیوں نہ ماں سے دریافت کیا۔ کسی نے کہا جھوٹا ہے۔ روپیہ دے کر افسوس ہوا تو اب یہ بہانہ بنالیا وغیرہ وغیرہ جب مولوی صاحب وعظ کر کے چلے گئے تو رات کو دو بجے وہ شخص وہ روپیہ لے کر ان مولوی صاحب کے گھر گیا اور جگا کر ان کو کہا کہ اس وقت تم نے میری تعریف کر کے سارا اجر میرا باطل کرنا چاہا۔ اس لیے میں نے شیطان کے وسوسوں سے بچنے کی یہ تدبیر کی تھی۔ اب یہ روپیہ تم لو مگر تم سے قسمیہ عہد لیتا ہوں کہ عمر بھر میرا نام کسی کے آگے نہ لینا کہ فلاں نے یہ روپیہ دیا۔ اب وہ مولوی حیران ہوا اور کہا کہ لوگ تو ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے اور تم کہتے ہو کہ میرا نام نہ لینا۔ اس نے کہا مجھے یہ عنتیں منظور ہیں مگر ریا سے بچنا چاہتا ہوں ۔ تو یہ ریا اور محجب بڑی بیماریاں ہیں۔ ان سے بچنا چاہیے اور بچنے کے لیے تدابیر بھی کرنی چاہئیں اور دعا بھی کرنی چاہیے۔ شیطان سے فریب کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے گھر کو آگ لگے تو وہ اپنے دوسرے حصے مکانات کے بچانے کے لیے ایک مکان کو خود بخودگراتا ہے۔ تدابیر انسان کو ظاہری گناہ سے بچاتی ہیں لیکن ایک کشمکش اندر قلب میں باقی رہ جاتی ہے اور دل ان مکروہات کی طرف ڈانواں ڈول ہوتا رہتا ہے ان سے نجات پانے کے لیے دعا کام آتی ہے کہ خدا تعالیٰ قلب پر ایک سکینت نازل فرماتا ہے۔