ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 58

ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانی ؒقائل ہیں کہ جو شخص ایک خاص تعلق اور پیوند خدا سے کرتا ہے اس سے ضرور مکالمہ الٰہی ہوتا ہے۔یہ کنایت ایک اور رنگ میں ان کے اپنے سوانح معلوم ہوتے ہیں جیسے جیسے خدا کا فضل ان پر ہوتا رہا اور وہ ترقی مراتب کرتے رہے ویسے ویسے بیان کرتے رہے۔صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد کا نیک بچپن حضرت اقدسؑ کے صاحبزادہ میاں بشیر احمدصاحب اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے مسجد میں آگئے اور اپنے ابا جان کے پاس ہو بیٹھے اور اپنے لڑکپن کے باعث کسی بات کے یاد آجانے پر آپ دبی آواز کھِل کھلا کر ہنس پڑتے تھے اس پر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مسجد میں ہنسنا نہ چاہیے۔جب دیکھا کہ ہنسی ضبط نہیں ہوتی تو اپنے باپ کی نصیحت پر یوں عمل کیا کہ صاحبزادہ صاحب اسی وقت اُٹھ کر چلے گئے۔۱ ۱۵؍فروری ۱۹۰۴ء کوئی آٹھ بجے رات کا وقت تھا کہ بمقام گورداسپور حضرت اقدس کے کمرہ میں چند احباب بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃو السلام کا رُوئے سخن جناب ڈاکٹر محمد اسمٰعیل خان صاحب احمدی انچارج پلیگ ڈیوٹی گورداسپور کی طرف تھا کہ تقویٰ کے مضمون پر حضرت اقدس نے ایک تقریر فرمائی۔وہ تقریر اس وقت لکھی تو نہیں گئی مگر جو کچھ نوٹ اور یادداشت زبانی یاد رہ سکے ان کو عمل درآمد کے لئے درج اخبار کیا جاتا ہے۔توکّل انسان کو چاہیے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دیوے اور خدا پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوسکتی۔خدا پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے ۱ البدر جلد ۳نمبر۸مورخہ۲۴؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۲،۳