ملفوظات (جلد 6) — Page 56
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۶ جلد ششم پیش دستی نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرے۔ یہی اقبال کی راہ ہے مگر افسوس ہے جن راہوں سے اقبال آتا ہے ان کو انسان بدظنی کی نظر سے دیکھتا ہے اور نحوست کی راہوں کو پسند کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر گر جاتا ہے۔ لے، ہے ۹ رفروری ۱۹۰۴ء ( قبل از عشاء ) عشاء سے پیشتر آپ نے مجلس فرمائی اور فرمایا کہ صاحبزادہ عبداللطیف کا نمونہ کمال کے ساتھ عیوب جمع نہیں ہو سکتے ۔ اس زمانہ میں ایک عبد اللطیف کا ہی نمونہ دیکھ لو کہ جس حالت میں اس نے جان جیسی عجیب شے سے دریغ نہ کیا تو اب جان کے بعد اس پر کیا نکتہ چینی کر سکتے ہیں۔ خواہ کوئی ہزار پردہ ڈالے مگر ان کی استقامت پرشک نہیں ہو سکتا۔ بیوی بچوں، مال وجاہ کی پروانہ کرنا اور یہاں سے جا کر ان میں سے کسی سے نہ ملنا ایسی استقامت ہے کہ سن کر لرزہ آتا ہے۔ دنیا میں بھی اگر ایک نوکر خدمت کرے اور حق وفا کا ادا کرے تو جو محبت اس سے ہوگی وہ دوسرے سے کیا ہو سکتی ہے جو صرف اس بات پر ناز کرتا ہے کہ میں نے کوئی اچک پنا نہیں کیا حالانکہ اگر کرتا تو سزا پاتا۔ اتنی بات سے حقوق قائم نہیں ہو سکتے ۔ حقوق تو صرف ل البدر میں مزید لکھا ہے۔ اس زمانہ میں مومن کا فرض " میرا مذہب یہ ہے کہ اگر چہ بہت لوگوں نے اس باطل کی تردید میں آزادانہ مضامین بھی لکھے ہیں مگر ابھی تک یہ حالت ہے جیسے سفید بیل کی کھال پر کوئی ایک بال سیاہ ہو کیونکہ قومی تعصب نے گھر کیا ہوا ہے۔ اگر کوئی نیک بخت انگریز ہو اور وہ اسلامی شعار کا قائل ہو تو اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتا اور یہ فتنہ اس قدر بڑھ گیا ہوا ہے کہ اگر کل درخت قلمیں بن جاویں تو بھی اُسے کفایت نہیں کر سکتیں ۔ دُنیا کا وہ حصہ جو کہ وحشیانہ زندگی بسر کرتا ہے چھوڑ کر باقی میں نصف کے قریب عیسائی ہیں ۔ اب اس وقت ہر ایک مومن کا کام یہ چاہیے کہ جب تک دم میں دم ہے اس باطل مذہب کا مقابلہ کرتا رہے اور اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ نہ ہو تو البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه (۲) 66 کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔“ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۶،۵