ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 54

ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد دعا کے ساتھ دلائل کی اہمیت اگر چہ فیصلہ دعاؤں سے ہی ہونے والا ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دلائل کو چھوڑ دیا جاوے۔ نہیں دلائل کا سلسلہ بھی برابر رکھنا چاہیے اور قلم کو روکنا نہیں چاہیے نبیوں کو خدا تعالیٰ نے اسی لیے أُولِي الْأَیدِی وَالْأَبْصَارِ (ص: ۴۶) کہا ہے کیونکہ وہ ہاتھوں سے کام لیتے ہیں ۔ پس چاہیے کہ تمہارے ہاتھ اور قلم نہ رکیں اس سے ثواب ہوتا ہے۔ لے جہاں تک بیان اور لسان سے کام لے سکو کام لیے جاؤ اور جو جو باتیں تائید دین کے لیے سمجھ میں آتی جاویں انہیں پیش کئے جاؤ وہ کسی نہ کسی کو فائدہ پہنچائیں گی ۔ میری غرض اور نیت بھی یہی ہے کہ جب وہ وقت آوے تو اپنے وقت کا ایک حصہ اس کام کے لیے بھی رکھا جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مقتلِ تام اور انقطاع کلی سے دعا کرے تو ایسے ایسے خارقِ عادت اور سماوی امور کھلتے ہیں اور سوجھتے ہیں کہ وہ دنیا پر حجت ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس دعا کے وقت جو کچھ خدا تعالیٰ ان کے استیصال کے وقت دل میں ڈالے وہ سب پیش کیا جاوے ۔ فرمایا کہ کھانسی جب شدت سے ہوتی ہے تو بعض وقت دم رُکنے لگتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان کندن کی سی حالت ہے۔ چنانچہ اس شدت کھانسی میں مجھے اللہ تعالیٰ کی غناء ذاتی کا خیال گذرا اور میں سمجھتا تھا کہ اب گویا موت کا وقت قریب ہے۔ اس وقت الہام ہوا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا اس کے یہ معنے سمجھائے گئے کہ ایسا خیال اس وقت غلط ہے بلکہ اس وقت جب إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْح کا نظارہ دیکھ لو ۔ اس وقت تو کوچ ضروری ہو جاتا ہے ۔ سب کے لیے یہی اصول ہے کہ جب وہ کام کہ جس کے لیے اس کو بھیجا جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے تو پھر وہ رُخصت ہوتا ہے ہر کسے را بہرکارے ساختند تو سچ ہے مگر سب آدمی اپنے اپنے کام اور غرض سے جس کے لیے وہ آئے ہیں واقف نہیں دو البدر سے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تدابیر پر بھروسہ نہ کرے۔ نظر خدا پر رکھے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه (۲)