ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 53

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳ جلد غرض یہ تو میں نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ محض قلم سے کچھ نہیں بنتا۔ کے اغراض نفسانی نے انسان کو دبایا ہوا ہے بہت سے لوگ نوکری کی غرض سے عیسائی ہو جاتے ہیں اور بعض اور نفسانی غرض کی وجہ سے اور بعض لوگ گورنمنٹ کے تعلقات کی وجہ سے۔ آسائش کی حقیقی راہ اس طریق پر چی راحت اور آسائش نہیں مل سکتی۔ مومن کوحقیقی راحت اور آسائش کے لیے رُو بخدا ہونا چاہیے۔ جو مومن آسائش کی زندگی چاہتے ہیں وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اس کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہ کریں ورنہ یہ یقیناً یا درکھیں کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں پر بھروسہ کرنے والے کو سچا خیر خواہ نہ پائیں گے۔ مسیح اول اور مسیح آخر کی دعا مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح نے جب دیکھا کہ صلیب کا واقعہ ٹلنے والا نہیں تو ان کو اس امر کا بہت ہی خیال ہوا کہ یہ موت لعنتی موت ہو گی پس اس موت سے بچنے کے لیے انہوں نے بڑی دعا کی ۔ دلِ بریاں اور چشم گریاں سے انہوں نے دعا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آخر وہ دعا قبول ہو گئی چنانچہ لکھا ہے فَسُمِعَ لِتَقُولُ ہم کہتے ہیں کہ جیسے پہلے مسیح کی دعا سنی گئی ہماری بھی سنی جاوے گی مگر ہماری دعا اور مسیح کی دعا میں فرق ہے۔ اس کی دعا اپنی موت سے بچنے کے لیے تھی اور ہماری دعا د نیا کو موت سے بچانے کے لیے ۔ (آيدَكَ اللهُ بِنَصْرِهِ ( ہماری غرض اس دعا سے اعلائے کلمۃ الاسلام ہے۔ احادیث میں بھی آیا ہے کہ آخر مسیح ہی کی دعا سے فیصلہ ہوگا۔ ہے ل البدر سے۔ کیونکہ پادریوں وغیرہ کے پاس روپیہ بہت ہے اور لوگوں کو اغراض نے دبا رکھا ہے کسی نے نوکری کے لیے کسی نے کسی حاجت کے لیے اپنے آپ کو ان کا دست نگر بنا رکھا ہے اس لیے دلائل وغیرہ کا جواثر دلوں پر ہونا چاہیے وہ نہیں ہوتا ۔“ (البدرجلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ صفحه ۵) البدر میں ہے۔ حدیثوں میں جو یہ مذکور ہے کہ جب کسی کو دجال کے مقابلہ کی طاقت نہ رہے گی اور ہر جگہ اس کا تسلط ہوگا تو آخر کار مسیح دعا کرے گا اور اس دعا سے وہ ہلاک ہو گا ۔“ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه (۲)