ملفوظات (جلد 6) — Page 53
؎ اندریں وقت مصیبت چارہ ہائے بیکساں جز دعائے با مداد و گریہ اسحار نیست پھر ان دعائوں کے لیے گوشہ نشینی کی بڑی ضرورت ہے۔کئی دفعہ یہ بھی خیال آیا ہے کہ باغ میں کوئی الگ مکان دعائوں کے واسطے بنالیں۔غرض یہ تو میں نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ محض قلم سے کچھ نہیں بنتا۔۱ اغراضِ نفسانی نے انسان کو دبایا ہوا ہے بہت سے لوگ نوکری کی غرض سے عیسائی ہو جاتے ہیں اور بعض اور نفسانی غرض کی وجہ سے اور بعض لوگ گورنمنٹ کے تعلقات کی وجہ سے۔آسائش کی حقیقی راہ اس طریق پر سچی راحت اور آسائش نہیں مل سکتی۔مومن کو حقیقی راحت اور آسائش کے لیے رُوبخدا ہونا چاہیے۔جو مومن آسائش کی زندگی چاہتے ہیں وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اس کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہ کریں ورنہ یہ یقیناً یادرکھیں کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں پر بھروسہ کرنے والے کو سچا خیر خواہ نہ پائیں گے۔مسیح اوّل اور مسیح آخر کی دعا مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح نے جب دیکھا کہ صلیب کا واقعہ ٹلنے والا نہیں تو ان کو اس اَمر کا بہت ہی خیال ہوا کہ یہ موت لعنتی موت ہو گی پس اس موت سے بچنے کے لیے انہوں نے بڑی دعاکی۔دلِ بریاں اور چشمِ گریاں سے انہوں نے دعا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آخر وہ دعا قبول ہوگئی چنانچہ لکھا ہے فَسُمِعَ لِتَقْوٰہُ ہم کہتے ہیں کہ جیسے پہلے مسیح کی دعاسُنی گئی ہماری بھی سُنی جاوے گی مگر ہماری دعا اور مسیح ۱ البدر سے۔’’کیونکہ پادریوں وغیرہ کے پاس روپیہ بہت ہے اور لوگوں کو اغراض نے دبا رکھا ہے کسی نے نوکری کے لیے کسی نے کسی حاجت کے لیے اپنے آپ کو ان کا دستِ نگر بنا رکھا ہے اس لیے دلائل وغیرہ کا جو اثر دلوں پر ہونا چاہیے وہ نہیں ہوتا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۷ مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۵) ۲ البدر میں ہے۔’’حدیثوں میں جو یہ مذکور ہے کہ جب کسی کو دجال کے مقابلہ کی طاقت نہ رہے گی اور ہر جگہ اس کا تسلّط ہوگا تو آخر کار مسیح دعا کرے گا اور اس دعا سے وہ ہلاک ہوگا۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۴ءصفحہ ۲ )