ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 52

سے دشمنی کرتے ہیں وہ دوسرے مسلمانوں کو اس قدر بُرا نہیں سمجھتے۔جہاں کہیں ہمارا ذکر ہو گالیاں دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ان کی فطرت خود تسلیم کرتی ہے کہ یہ سلسلہ ان کو ہلاک کر دینے والا ہے جیسے بلّی کا منہ جب چوہا دیکھتا ہے حالانکہ اس نے پہلے کبھی اس پر حملہ نہ بھی کیا ہو فوراً ہی سمجھ جاتا ہے کہ یہ میری دشمن ہے۔بکری نے کبھی شیر کو دیکھا بھی نہ ہو لیکن جونہی اسے نظر آجاوے وہ گھبرا کر کھانا پینا چھوڑ دے گی اسی طرح پر عیسائی ہمارے سلسلہ کے کسی آدمی کو دیکھ کر ہی اس سے بیزار ہوجاتے ہیں۱ وہ جانتےہیں کہ ان سے کوئی امید ان کو نہیں ہے۔ان کی فطرت ہی ان کو بتادیتی ہے۔فطر کے معنے پھاڑنے کے ہیں اورفطرت سے یہ مراد ہے کہ انسان خاص طور پر پھاڑا گیا ہے۔جب آسمان سے قوت آتی ہے تو نیک قوتیں پھٹنی شروع کردیتی ہیں۔فرمایا۔براہینِ احمدیہ میں جو یہ الہام ہے بڑا ہی پُرزور اور مبشر ہے وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَتْرُکَکَ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ یعنی خدا ایسا نہیں ہے جو تجھے چھوڑدے جب تک پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھادے۔یہ الہام بڑا ہی مبشر ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ عظیم الشّان فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔کسر صلیب کے لئے دعا کی اہمیت اگرچہ یہ سچی بات ہے کہ جب سے عیسائیوں کا قدم آیا ہے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کمی نہیں کی اور کسی نہ کسی حد تک ان کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور کتابیں اور رسالے لکھتے ہی رہے ہیں لیکن باوجود اس کے بھی ان کی جماعت بڑھتی ہی گئی ہے یہاںتک کہ اب شاید تیس لاکھ کے قریب مرتد ہو چکے ہیں اس لیے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ کسر صلیب جانکاہ دعائوں پر موقوف ہے۔دعا میں ایسی قوت ہے کہ جیسے آسمان صاف ہو اور لوگ تضرّع اور ابتہال کے ساتھ دعا کریں تو آسمان پر بدلیاں سی نمودار ہوجاتی ہیں اوربارش ہونے لگتی ہے۔اسی طرح پر میں خوب جانتا ہوں کہ دعا اس باطل کو ہلاک کر دے گی اور لوگوں کو تو کوئی غرض نہیں ہے۱ کہ وہ دین کے لیے دعا کریں مگر میرے نزدیک بڑا چارہ دعا ہی ہے اور یہ بڑا خطرناک جنگ ہے جس میں جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔وَنِعْمَ مَا قِیْلَ۔؎ اندریں وقت مصیبت چارہ ہائے بیکساں جز دعائے با مداد و گریہ اسحار نیست ۱ البدر میں ہے۔’’ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگوں کو اس قسم کی دعا سے مطلب ہی کیا ہے کہ اس فتنہ اور بطلان کی استیصال کے لیے دعائیں کریں ان کی تو کُل دعائیں اپنے اپنے نفس کی ضروریات تک محدود ہیں حالانکہ اس زمانہ میں دعا ایک بڑا جنگ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء