ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 51

ان کی کشتی ایک پہاڑ پر جاٹھہری جس کو اب اراراٹ کہتے ہیں اراراٹ کی اصل یہ ہے ارارات یعنی میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں۱ انہوں نے ایک پہاڑ کا سرا دیکھ کر کہا تھا اور اب اسی نام سے یہ مشہور ہو گیا اور بگڑکراراراٹ بن گیا یہ زمانہ بھی نوح علیہ السلام کے زمانہ سے مشابہ ہے خدا تعالیٰ نے میرا نام بھی نوح رکھا ہے اور وہی الہام جو کشتی کا نوحؑکو ہوا تھا یہاں بھی ہوا ہے اسی طرح پر اب خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا چاہا ہے اور حقیقت میں اگر ایسا نہ ہوتا تو ساری دنیا دہریہ ہو جاتی اقبال اور کثرت نے دنیا کو اندھا کردیاہے۔عیسائی مذہب کا خاتمہ اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ جو کہا گیا ہے بالکل سچ ہے انسان جب سلطنت اور حکومت کو دیکھتا ہے تو اس کے خوش کرنے کے لیے اور اس سے فائدہ اُٹھا نے کے واسطے وہی رنگ اختیار کرنے لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت عیسائیوں کی کثرت،ان کی قومی ثروت اور اقبال نے لوگوں کو خیرہ کردیا ہے اور ان وجوہات سے بہت سے لوگوں کو ادھر توجہ ہوگئی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس مذہب کا خاتمہ ہو جاوے اور اس کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔عیسائی خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ ان کے مذہب کو ہلاک کر دے گا۔پادریوں کی نظر میں ہماری جماعت دل کو دل سے راہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ پادری جس قدر ہماری جماعت کو بُرا سمجھتے ہیں اور اس سے دشمنی کرتے ہیں وہ دوسرے مسلمانوں کو اس قدر بُرا نہیں سمجھتے۔جہاں کہیں ہمارا ذکر ہو گالیاں دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ان کی فطرت خود تسلیم کرتی ہے کہ یہ سلسلہ ان کو ہلاک کر دینے والا ہے جیسے بلّی کا منہ جب چوہا دیکھتا ہے حالانکہ اس نے پہلے کبھی اس پر حملہ نہ بھی کیا ہو فوراً ہی سمجھ جاتا ہے کہ یہ میری دشمن ہے۔بکری نے کبھی شیر کو دیکھا بھی نہ ہو لیکن جونہی اسے نظر آجاوے وہ گھبرا کر کھانا پینا چھوڑ ۱البدر میں ہے۔’’ ان لوگوں نے تاڑ لیا ہے کہ عیسائی مذہب کے دشمن اگر ہیں تو ہم ہی ہیں اَور کوئی فرقہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۵)