ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 50

کے واسطے دلائل مفید ہوسکتے ہیں ورنہ دلائل کی پروا ہی نہیں کی جاتی اور قلم کام نہیں دیتا ہم ایک کتاب یا رسالہ لکھتے ہیں مخالف اس کے جواب میں لکھنے کو طیار ہو جاتے ہیں۔۳ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ دعا سے آخری فتح ہو گی اور انبیاء علیہم السلام کا یہی طرز رہا ہے کہ جب دلائل اور حجج کام نہیں دیتے تو ان کا آخری حربہ دعا ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ ( ابراہیم:۱۶) یعنی جب ایسا وقت آجاتا ہے کہ انبیاء ورسل کی بات لوگ نہیں مانتے تو پھر دعا کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے مخالف متکبّر وسرکش آخر نا مراد اور ناکام ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی مسیح موعود (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کے متعلق جو یہ آیا ہے وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا (الکھف:۱۰۰) اس سے بھی مسیح موعود کی دعاؤںکی طرف اشارہ پایا جاتا ہے نزول ازآسمان کے یہی معنے ہیں کہ جب کوئی اَمر آسمان سے پیدا ہوتا ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور اسے ردّ نہیں کرسکتا آخری زمانہ میں شیطان کی ذرّیّت بہت جمع ہو جائے گی کیونکہ وہ شیطان کا آخری جنگ ہے مگر مسیح موعود کی دعائیں اس کو ہلاک کر دیں گی۔نوح کے زمانہ سے مناسبت اسی طرح نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا جب حضرت نوحؑ تبلیغ کرتے کرتے تھک گئے تو آخر انہوں نے دعا کی تو نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طوفان آیا جس نے شریروں کو ہلاک کر دیا اور اس طرح پر فیصلہ ہو گیا آخر (بقیہ حاشیہ)اور دیکھا کہ ابھی فتنہ برقرار ہے تو پھر انہوں نے دعا کی طرف توجہ کی تا کہ توجہ باطنی سے فتنہ کو پاش پاش کیا جاوے جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فر ماتا ہے وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ ( ابراہیم:۱۶) یعنی جب رسولوں نے دیکھا کہ وعظ اور پند سے کچھ فائدہ نہ ہوا تو انہوں نے ہر ایک بات سے کنارہ کش ہوکر خدا کی طرف توجہ کی اور اس سے فیصلہ چاہا تو پھر فیصلہ ہو گیا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۵) ۱ البدر میں ہے۔’’ راٹ عبرانی زبان میں پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں اور اَرٰی بمعنے میں نے دیکھ لیا۔نوحؑ نے جب خشکی کی تلاش میں چاروں طرف نظر ماری اور پانی ہی پانی نظر آیا تو چونکہ کچھ پانی اتر چلا تھا اس لیے جودی پہاڑ کی چوٹی ان کو نظر آئی اور اسی وجہ سے اس کا نام ارارات پڑ گیا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۵)