ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 49

ہر وقت بند رہنے سے بعض اوقات کئی قسم کے امراض حملہ کرتے ہیں علاوہ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کو لے جایا کرتے تھے جنگوں میں حضرت عائشہؓ ساتھ ہوتی تھیں۔پردہ کے متعلق بڑی افراط و تفریط ہوئی ہے یورپ والوں نے تفریط کی ہے اور اب ان کی تقلید سے بعض نیچری بھی اسی طرح چاہتے ہیں حالانکہ اس بے پردگی نے یورپ میں فسق وفجور کادریا بہادیا ہے اور اس کے بالمقابل بعض مسلمان افراط کرتے ہیں کہ کبھی عورت گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں حالانکہ ریل پر سفر کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے غرض ہم ان دونوں قسم کے لوگوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں جو افراط اور تفریط کر رہے ہیں۔۱ ۸؍فروری ۱۹۰۴ء حسب معمول حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سَیر کے لیے تشریف لائے۔سلسلہ کلام مقدمات کے متعلق شروع ہوا۔اور چندمنٹ کے بعد سلسلہ کلام کا رخ بدل گیا جس کو ہم اپنے الفاظ اور طرزپر مرتّب کرکے لکھتے ہیں۔(ایڈیٹر) آخری فتح دعا سے ہو گی مَیں دیکھتا ہوں کہ یہ زمانہ۲ اس قسم کا آگیا ہے کہ انصاف اور دیانت سے کام نہیں لیا جاتا اور بہت ہی تھوڑے لوگ ہیں جن ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۵ ۲ البدر میں ہے۔’’ زمانہ کی حالت آپ نے بتلائی کہ جس کو دیکھو رُو بدنیا ہے دین کی فکر اوراس کے لئے سوزوگداز ہرگز نہیں۔دنیا کے کیڑے بنے ہوئے ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ءصفحہ۵) ۳ البدر میں یوں لکھا ہے۔’’ عیسویت کے مہلک فتنہ کی نسبت آپ نے فر مایا کہ بہت غور اور فکرکے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اب صرف قلموں اور کا غذوں کا کام ہی نہیں ہے کہ وہ اس فتنہ کو فرو کرسکے۔کتابیں ہم نے لکھیں تو اس کے مقابل پر انہوں نے بھی لکھ دیں لوگ اپنے اپنے نفس کی فکر میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کو مقابلہ کر نے کی فرصت ہی نہیں ہوتی اور جب انہوںنے مقابلہ ہی نہ کیا تو پھر حق کیسے کھلے اس لیے اب میرا ارادہ ہے کہ ایک لمبا سلسلہ دعا اور انقطاع کا شروع کیا جاوے نرے وعظ اور تبلیغ سے کیا ہوتا ہے انبیاء بھی جب وعظ اور تبلیغ سے تھک گئے