ملفوظات (جلد 6) — Page 49
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹ جلد شش پردہ کے متعلق بڑی افراط و تفریط ہوئی ہے یورپ والوں نے تفریط کی ہے اور اب ان کی تقلید ۔ سے بعض نیچری بھی اسی طرح چاہتے ہیں حالانکہ اس بے پردگی نے یورپ میں فسق و فجور کا دریا بہادیا ہے اور اس کے بالمقابل بعض مسلمان افراط کرتے ہیں کہ کبھی عورت گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں حالانکہ ریل پر سفر کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے غرض ہم ان دونوں قسم کے لوگوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں جو افراط اور تفریط کر رہے ہیں ۔ لے ۸ فروری ۱۹۰۴ء حسب معمول حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لیے تشریف لائے ۔ سلسلہ کلام مقدمات کے متعلق شروع ہوا۔ اور چند منٹ کے بعد سلسلہ کلام کا رخ بدل گیا جس کو ہم اپنے الفاظ اور طرز پر مرتب کر کے لکھتے ہیں۔ (ایڈیٹر ) آخری فتح دعا سے ہوگی میں دیکھتا ہوں کہ یہ زمانہ کے اس قسم کا آ گیا ہے کہ انصاف اور دیانت سے کام نہیں لیا جاتا اور بہت ہی تھوڑے لوگ ہیں جن کے واسطے دلائل مفید ہو سکتے ہیں ورنہ دلائل کی پرواہی نہیں کی جاتی اور قلم کام نہیں دیتا ہم ایک کتاب یا رسالہ لکھتے ہیں مخالف اس کے جواب میں لکھنے کو طیار ہو جاتے ہیں۔ سے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵ البدر میں ہے ۔ زمانہ کی حالت آپ نے بتلائی کہ جس کو دیکھو رو بدنیا ہے دین کی فکر اور اس کے لئے سوز و گداز البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخه ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵ ) ہر گز نہیں ۔ دنیا کے کیڑے بنے ہوئے ہیں ۔“ سے البدر میں یوں لکھا ہے۔ ” عیسویت کے مہلک فتنہ کی نسبت آپ نے فرمایا کہ بہت غور اور فکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اب صرف قلموں اور کاغذوں کا کام ہی نہیں ہے کہ وہ اس فتنہ کو فروکر سکے۔ کتا بیں ہم نے لکھیں تو اس کے مقابل پر انہوں نے بھی لکھ دیں لوگ اپنے اپنے نفس کی فکر میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کو مقابلہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی اور جب انہوں نے مقابلہ ہی نہ کیا تو پھر حق کیسے کھلے اس لیے اب میرا ارادہ ہے کہ ایک لمبا سلسلہ دعا اور انقطاع کا شروع کیا جاوے نرے وعظ اور تبلیغ سے کیا ہوتا ہے انبیاء بھی جب وعظ اور تبلیغ سے تھک گئے