ملفوظات (جلد 6) — Page 48
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ جلد نے سی کر دی ہوں گی۔ پھر تعجب ہے کہ وہ کبھی میلی نہ ہوں گی اور نہ وہ کبھی ان کو اُتاریں گے اور نہ وہ پھٹیں گی۔ یہ کیسی عجیب باتیں ہیں جن کو سن کر ہنسی آتی ہے ادھر یہ لباس تجویز کیا اور خدمت یہ تجویز کی کہ وہ جنگلوں میں خنزیر مارتا پھرے۔ ت پردہ میں افراط و تفریط سے بچنے کی تلقین حضرت ام المومنی کی بیعت کسی قدر ناساز رہا کرتی تھی ۔ آپ نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی جایا کریں تو کچھ حرج تو نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ دراصل میں تو اس لحاظ سے کہ معصیت کے نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں رعایت پردہ کے ساتھ باغ میں لے جایا کرتا تھا اور میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتا۔ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ بہار کی ہوا کھاؤ گھر کی چاردیواری کے اندر ہر وقت بند رہنے سے بعض اوقات کئی قسم کے امراض حملہ کرتے ہیں علاوہ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو لے جایا کرتے تھے جنگوں میں حضرت عائشہ ساتھ ہوتی تھیں ۔ ل البدر میں ہے ۔ ان میں بھی ضدین کو جمع کیا ہے ادھر بھگوے کپڑے پہناتے ہیں ادھر ہاتھ میں نیزہ“ البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخه ۱۶ فروری ۱۹۰۴ء صفحه (۴) کے البدر میں ہے۔ عورتوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے کہ جب موسم متعفن ہوتا ہے تو ان کو اسی چار دیواری کے حبس میں زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔ لوگ اگر چہ ملامت کرتے ہیں اور برا جانتے ہیں لیکن جبکہ ایک امر خدا کی رضا کے برخلاف نہیں ہے تو ہمیں اس کے بجالانے میں کیا تأمل ہے۔ جبکہ خدا نے مرد و عورت میں مساوات رکھی ہے تو اسی خیال سے کہ کہیں ان کو جس میں رکھنا معصیت کا موجب نہ ہو۔ میں گاہے گاہے اپنے گھر سے چند دوسری عورتوں کے ساتھ باغ میں سیر کے لیے لے جایا کرتا تھا اور اب بھی ارادہ ہے کہ لے جایا کروں ۔ یورپ کے اعتراض پردہ پر بے حیائی کے ہیں اور ان میں تفریط ہے اور مسلمانوں میں افراط ہے کہ گھروں کو ۔ عورتوں کے لیے بالکل جبس بنادیا ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حضرت عائشہ کو باہر اپنے ساتھ لے جایا کرتے جنگوں میں بھی اپنے ساتھ رکھتے جو پردہ کہ سمجھا گیا ہے وہ غلط ہے۔ قرآن شریف نے جو پردہ بتلایا ہے وہ البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۶ ) ٹھیک ہے۔“ 66