ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 48

نے سی کردی ہوں گی۔پھر تعجب ہے کہ وہ کبھی مَیلی نہ ہوں گی اور نہ وہ کبھی ان کو اُتاریں گے اور نہ وہ پھٹیں گی۔یہ کیسی عجیب باتیں ہیں جن کو سن کر ہنسی آتی ہے ادھر یہ لباس تجویز کیا اور خدمت یہ تجویز کی کہ وہ جنگلوں میں خنزیر مارتا پھرے۔۱ پردہ میں افراط وتفریط سے بچنے کی تلقین حضرت اُمّ المومنین کی طبیعت کسی قدر ناساز رہا کرتی تھی۔آپؑنے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی جایا کریں تو کچھ حرج تو نہیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایاکہ دراصل میں تو اس لحاظ سے کہ معصیت۲ نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں رعایت پردہ کے ساتھ باغ میں لے جایا کرتا تھا اور میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتا۔حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ بہار کی ہوا کھاؤ گھر کی چار دیواری کے اندر البدر میں ہے۔’’ ان میں بھی ضدین کو جمع کیا ہے ادھر بھگوے کپڑے پہناتے ہیں ادھر ہاتھ میں نیزہ۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۷مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۰۴ءصفحہ۴) ۲ البدر میں ہے۔’’ عورتوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے کہ جب موسم متعفّن ہوتا ہے تو ان کو اسی چار دیواری کے حبس میں زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔لوگ اگرچہ ملامت کرتے ہیں اور بُرا جانتے ہیں لیکن جبکہ ایک اَمر خدا کی رضا کے برخلاف نہیں ہے تو ہمیں اس کے بجالانے میں کیا تأمّل ہے۔جبکہ خدا نے مرد و عورت میں مساوات رکھی ہے تو اسی خیال سے کہ کہیں ان کو حبس میں رکھنا معصیّت کا موجب نہ ہو۔میں گاہے گاہے اپنے گھر سے چند دوسری عورتوں کے ساتھ باغ میں سیر کے لیے لے جایا کرتا تھا اور اب بھی ارادہ ہے کہ لے جایا کروں۔یورپ کے اعتراض پردہ پر بے حیائی کے ہیں اور ان میں تفریط ہے اور مسلمانوں میں افراط ہے کہ گھروںکو عورتوں کے لیے بالکل حبس بنادیاہے۔پیغمبرِخدا صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حضرت عائشہ ؓ کو باہر اپنے ساتھ لے جایا کرتے جنگوں میں بھی اپنے ساتھ رکھتے جو پردہ کہ سمجھا گیا ہے وہ غلط ہے۔قرآن شریف نے جو پردہ بتلایا ہے وہ ٹھیک ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۶ )