ملفوظات (جلد 6) — Page 44
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶،۵ رفروری ۱۹۰۴ء ۱۵ تاریخ کو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سیر کو تشریف لے گئے لیکن میں اس سیر میں ایک مغالطہ کی وجہ سے شریک نہ ہو سکا ۔ ( ڈائری نویس ) فرمایا۔ ر تاریخ کو عصر کے وقت آپ نے مجلس فرمائی ۔ مختلف تذکرے ہوتے رہے۔ سرسید کا ذکر آ گیا دوسری قوم کے رعب میں آکر اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آخر یہاں تک مداہنت نوبت پہنچی کہ آپ آخر ایام میں تثلیث کے ماننے والوں کو بھی نجات یافتہ قرار دے گئے مداہنہ کی انتہا یہی ہوا کرتی ہے کہ آخر اسی قوم کا انسان کو بنا پڑتا ہے۔ قرآن شریف میں اسی لیے ہے لَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصْرِى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمُ ( البقرة : ۱۲۱) دوسرے رے کو راضی کرنے کے لیے انسان کو اس کے مذہب کو بھی اچھا کہنا پڑتا ہے اسی لیے مداہنہ سے مومن کو پرہیز کرنا چاہیے۔ مخامین کا رویہ دیکھتا ہوں کہ اس وقت ان لوگوں (یعنی مخالفوں ) میں سے شاذ و نادر ہی ہوگا کا فرمایا کہ مجھے بھی یہ الہام ہوا ہے جیسے کہ براہین میں درج ہے اور میں جو ہم سے راضی ہو اور ہمارے ساتھ اخلاق سے پیش آنا چاہتا ہو۔ ہاں اگر شخصی طور پر کسی کی ذات میں اخلاق سرش سرشت ہوا ہوا ہو تو وہ شاید ہم سے اخلاق سے پیش آجاوے ورنہ قومی طور پر ہم سے ہرگز اخلاق سے پیش آنا نہیں چاہتے۔ اجتہاد میں غلطی ہو جانا نبوت کے خلاف نہیں کسی صاحب نے اوردھیانہ سے حضرت صاحب کو مخالفین کا یہ اعتراض لکھا کہ شَاتَانِ تُنْبَحَانِ کا الہام جواب شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے بارے میں لکھا گیا ہے وہ قبل ازیں کسی تصنیف میں مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد پر چسپاں ہو چکا ہے۔ اس پر