ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 43

شہد کے خواص شہد کے تذکرے پر آپ نے فرمایا کہ دوسری تمام شیرینیوں کو تو اطباء نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر یہ ان میں سے نہیں ہے۔آنب وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربے کئے گئے ہیں کہ وہ بالکل خراب نہیں ہوتے سالہاسال ویسے ہی پڑے رہتے ہیں۔فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے انڈے پر تجر بہ کیا تو تعجب ہو اکہ اس کی زردی تو ویسی ہی رہی مگر سفیدی انجماد پا کر مثل پتھر کے سخت ہو گئی جیسے پتھر نہیں ٹوٹتا ویسے ہی وہ بھی نہیں ٹوٹتی تھی۔خدا تعالیٰ نے اسے شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ(النّحل:۷۰) کہا ہے۔واقعی میں عجیب اور مفید شَے ہے تو کہا گیا ہے۔یہی تعریف قرآنِ شریف کی فرمائی ہے۔ریاضت کش اور مجاہدہ کرنے والے لوگ اکثر اسے استعمال کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں وغیرہ کو محفوظ رکھتا ہے۔اس میں ال جو ناس کے اوپر لگایا گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اس کے اپنے (یعنی خدا تعالیٰ کے )ناس(بندے)ہیں اور اس کے قرب کے لیے مجاہدے اور ریا ضتیں کرتے ہیں ان کے لیے شفا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ تو ہمیشہ خواص کو پسند کرتا ہے عوام سے اسے کیا کام؟ مَرنے والوں کے اَمثال فرمایا۔کوئی عمدہ آدمی فوت ہو تو صدمہ ضرور ہوتا ہے لیکن دنیا ایسی جگہ ہے کہ اس میں پھر ویسے اَمثال پیدا ہو جاتے ہیں نیکوں کے بھی۔بدوں کے بھی۔اسی لیے بعض نے دنیا کو دَوری لکھا ہے کہ جن صفات کے لوگ اس کے ایک دَور میں گذرجاتے ہیں پھر اسی قسم کے لوگ وہی سیرتیں اور صورتیں لے کر دوسرے دَور میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔مخدوم حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کی کہ حضور یہیں سے ٹھوکر کھا کر لوگ تنا سخ کے قائل ہو گئے ہیں۔۱ ۱ البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ۳ والحکم جلد ۸نمبر۶مورخہ۱۷؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ۳