ملفوظات (جلد 6) — Page 42
ملفوظات حضرت مسیح موعود لدا جلد شش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے بہت سے آثار بتلائے مگر تا ہم اگر ذرا سخت آندھی چلتی یا بارش ہوتی تو آپ گھبرا جاتے اور خیال کرتے کہ کیا قیامت تو نہیں آئی۔ اس وقت آپ کی نظر خدا کی بے نیازی پر ہوتی ۔ جنگ بدر میں فتح کا وعدہ تھا مگر تا ہم رو رو کر دعائیں کرتے ۔ آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ فتح کا وعدہ تو ہے مگر شاید کوئی شرط اس میں ایسی پنہاں ہو جس کا مجھے علم نہیں تو پھر فتح نہ ہو۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا کیا وعدے تھے مگر آخر قوم کی قوم جنگلوں میں مرکھپ گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ الہی وعدے جن شرائط کے ساتھ مشروط تھے ان کے برعکس قوم نے کارروائی کی ۔ جماعت کی شامت اعمال کا اثر مامور پر پڑتا ہے۔ جنگ اُحد میں ایک طائفہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا نہ مانا تو آپ کو کس قدر تکلیف ہوئی۔ ستر زخم آپ کو لگے۔ دانت شہید ہوا ۔ خود اس قدر سر میں دھنس گئی کہ صحابہ زور لگا کر اسے نکالتے اور نہ نکلتی۔ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کے آگے کسی کی کیا پیش چل سکتی ہے۔ لے ۲ تا ۴ رفروری ۱۹۰۴ء حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی طبیعت علیل رہی اور بائیں وجہ سیر بھی ملتوی رہی برداطراف چکر وغیرہ کے دماغی امراض جو آپ کو مصلحت الہی سے لاحق ہیں۔ ان کے دورے رہے۔ مختلف اوقات میں آپ شریک نماز با جماعت ہوتے رہے اور جو از کاران اوقات میں ضبط ہوئے وہ ہدیہ ناظرین ہیں۔ مرحوم رحمت علی کے ذکر پر آپ نے فرمایا کہ رحمت علی مرحوم یہ اس کی پاکیزہ فرت کی شان ہے کہ فریقہ میں نا انہ طور پرمیں قتل کیا اور اس چھوٹی سی عمر میں ترقی اخلاص میں بھی کی ۔ ا غائبانہ نائبانہ اس سال میں اور بھی ہمارے مخلص فوت ہوئے ہیں۔ ل البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲، ۳ و الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۲، ۳