ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 42

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے بہت سے آثار بتلائے مگرتاہم اگر ذرا سخت آندھی چلتی یا بارش ہوتی تو آپ گھبرا جاتے اور خیال کرتے کہ کیا قیامت تو نہیں آئی۔اس وقت آپ کی نظر خدا کی بے نیازی پر ہوتی۔جنگِ بدر میں فتح کا وعدہ تھا مگرتا ہم رو رو کر دعائیں کرتے۔آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ فتح کا وعدہ تو ہے مگر شاید کوئی شرط اس میں ایسی پنہاں ہو جس کا مجھے علم نہیں تو پھر فتح نہ ہو۔موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا کیا وعدے تھے مگرآخر قوم کی قوم جنگلوں میں مَر کھپ گئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ الٰہی وعدے جن شرائط کے ساتھ مشروط تھے ان کے بر عکس قوم نے کارروائی کی۔جماعت کی شامت ِاعمال کا اثر مامور پر پڑتا ہے۔جنگِ اُحد میں ایک طائفہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا نہ مانا تو آپ کو کس قدر تکلیف ہوئی۔ستّر زخم آپ کو لگے۔دانت شہید ہوا۔خَود اس قدر سر میں دھنس گئی کہ صحابہؓ زور لگا کر اسے نکالتے اور نہ نکلتی۔اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کے آگے کسی کی کیا پیش چل سکتی ہے۔۱ ۲ تا ۴ ؍فروری ۱۹۰۴ء حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طبیعت علیل رہی اور بایں وجہ سیر بھی ملتوی رہی بردِ اطراف چکر وغیرہ کے دماغی امراض جو آپ کو مصلحت ِالٰہی سے لاحق ہیں۔ان کے دورے رہے۔مختلف اوقات میں آپ شریک نماز باجماعت ہوتے رہے اور جو اذکار ان اوقات میں ضبط ہوئے وہ ہدیہ ناظرین ہیں۔رحمت علی مرحوم مرحوم رحمت علی کے ذکر پر آپ نے فرمایا کہ یہ اس کی پاکیزہ فطرت کی نشانی ہے کہ افریقہ میں غائبانہ طور پر ہمیں قبول کیا اور اس چھوٹی سی عمر میں ترقی اخلاص میں بھی کی۔اس سال میں اور بھی ہمارے مخلص فوت ہوئے ہیں۔۱ البدر جلد ۳نمبر۷مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ ۲،۳ والحکم جلد ۸نمبر۶مورخہ۱۷؍فروری۱۹۰۴ءصفحہ۲،۳