ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 41

ملفوظات حضرت مسیح موعود یکم فروری ۱۹۰۴ء (صبح کی سیر ) ۴۱ اتمام محبت کی تکمیل فرمایا کہ قوئی خواہ کتنے ہی قوی ہوں اور عمر کس قدر ہی اوائل میں کیوں نہ ہو مگر تا ہم عمر کا اعتبار نہیں ہے۔ نہیں معلوم کہ کس وقت موت آجاوے۔ اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اگر چہ اپنے فرض کا ایک حصہ بذریعہ تحریروں کے ہم نے پورا کر دیا ہے مگر تا ہم ایک بڑا ضروری حصہ باقی ہے کہ عوام الناس کے کانوں تک ایک دفعہ خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دیا جاوے کیونکہ عوام الناس میں ایک بڑا حصہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو کہ تعصب اور تکبر وغیرہ سے خالی ہوتے ہیں اور محض مولویوں کے کہنے سننے سے وہ حق سے محروم رہتے ہیں۔ جو کچھ یہ مولوی کہہ دیتے ہیں اسے آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہہ کر مان لیتے ہیں۔ ہماری طرف کی باتوں اور دعوؤں اور دلیلوں سے محض نا آشنا ہوتے ہیں ۔ اس لیے ارادہ ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں جا کر بذریعہ تقریر کے لوگوں پر اتمام حجت کی جاوے اور ان کو بتلایا جاوے کہ ہمارے مامور ہونے کی غرض کیا ہے اور اس کے دلائل کیا ہیں فقط ۔ در اصل یہ ایک لمبی تقریر تھی جس کا خلاصہ میں نے درج کر دیا ہے۔ حضرت اقدس بہت دور نکل گئے تھے اور میں پیچھے پہنچا۔ حافظ روشن علی صاحب برادر ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم کی زبانی یہ خلاصہ سن کر درج کیا ہے جس کی تصدیق دیگر احباب نے بھی کی ۔ اس اتمام حجت کے بعد پنجاب کے بڑے بڑے شہر یا تو خدا تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے اور بصورت انکار سخت غضب کے۔ فرمایا که خدا تعالیٰ کی بے نیازی پر ایمان عمر کی نسب اگر چہ مجھ الہام بھی ہو ہے اور خواہیں ا ہے اور میں بھی آئی ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی پر نظر پڑتی ہے تو مجھے اپنی عمر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ پھر مجھے لوگوں پر تعجب آتا ہے کہ ان کو عمر کا کوئی وعدہ بھی نہیں ملا ہوا مگر پھر بھی وہ ایسے عمل کرتے ہیں جیسے کہ مطلق موت آنی ہی نہیں ۔ سعادت یہ ہے کہ موت کو قریب جانے تو سب کام خود بخو د درست ہو جاویں گے۔