ملفوظات (جلد 6) — Page 41
یکم فروری ۱۹۰۴ء (صبح کی سیر) اتمامِ حُجّت کی تکمیل فرمایا کہ قویٰ خواہ کتنے ہی قوی ہوں اور عمر کس قدر ہی اوائل میں کیوں نہ ہو مگر تا ہم عمر کا اعتبار نہیں ہے۔نہیں معلوم کہ کس وقت موت آجاوے۔اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اگرچہ اپنے فرض کا ایک حصّہ بذریعہ تحریروں کے ہم نے پورا کر دیا ہے مگرتا ہم ایک بڑا ضروری حصّہ باقی ہے کہ عوام الناس کے کانوں تک ایک دفعہ خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دیا جاوے کیونکہ عوام النّاس میں ایک بڑا حصّہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو کہ تعصّب اور تکبّر وغیرہ سے خالی ہوتے ہیں اور محض مولویوں کے کہنے سننے سے وہ حق سے محروم رہتے ہیں۔جو کچھ یہ مولوی کہہ دیتے ہیں اسے اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہہ کر مان لیتے ہیں۔ہماری طرف کی باتوں اور دعوؤں اور دلیلوں سے محض نا آشنا ہوتے ہیں۔اس لیے ارادہ ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں جا کر بذریعہ تقریر کے لوگوں پر اِتمامِ حُجّت کی جاوے اور ان کو بتلایا جاوے کہ ہمارے مامور ہونے کی غرض کیا ہے اور اس کے دلائل کیا ہیں فقط۔دراصل یہ ایک لمبی تقریر تھی جس کا خلاصہ میں نے درج کردیا ہے۔حضرت اقدسؑ بہت دور نکل گئے تھے اور میں پیچھے پہنچا۔حافظ روشن علی صاحب برادرڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم کی زبانی یہ خلاصہ سن کر درج کیا ہے جس کی تصدیق دیگر احباب نے بھی کی۔اس اِتمامِ حُجّت کے بعد پنجاب کے بڑے بڑے شہر یا تو خدا تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے اور بصورتِ انکار سخت غضب کے۔خدا تعالیٰ کی بے نیازی پر ایمان فرمایا کہ عمر کی نسبت اگرچہ مجھے الہام بھی ہوا ہے اور خوابیں بھی آئی ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی پر نظر پڑتی ہے تو مجھے اپنی عمر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔پھر مجھے لوگوں پر تعجب آتا ہے کہ ان کو عمر کا کوئی وعدہ بھی نہیں ملا ہوا مگر پھر بھی وہ ایسے عمل کرتے ہیں جیسے کہ مطلق موت آنی ہی نہیں۔سعادت یہ ہے کہ موت کو قریب جانے تو سب کام خود بخود درست ہو جاویں گے۔