ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 39

۳۱؍جنوری ۱۹۰۴ء (صبح کی سیر) عذاب ِالٰہی کی ضرورت وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا (بنی اسـرآءیل:۵۹) یہ اسی زمانہ کے لیے ہے کیونکہ اس میں ہلاکت اور عذاب مختلف پیرایوں میں ہے کہیں طوفان ہے، کہیں زلزلوں سے، کہیں آگ کے لگنے سے۔اگرچہ اس سے پیشتر بھی یہ سب باتیں دنیا میں ہوتی رہی ہیں مگر آج کل ان کی کثرت خارِق عادت کے طور پر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک نشان ہے اس آیت میں طاعون کا نام نہیں ہے۔صرف ہلاکت کا ذکر ہے خواہ کسی قسم کی ہو۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس قوت اور پوری توجہ سے لوگوں نے دنیا اور اس کے ناجائز وسائل کو مقدم رکھا ہوا ہے اور عظمتِ الٰہی کو دلوں سے اُٹھا دیا ہے۔اب صرف وعظوں کا کام نہیں ہے کہ اس کا علاج کرسکیں عذابِ الٰہی کی ضرورت ہے۔بابو شاہدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور عذاب سے بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔کہتے ہیں کہ ہمیشہ بیماریاں وغیرہ ہوا ہی کرتی ہیں۔فرمایا۔قرآنِ شریف میں طوفانِ نوح کا ذکر ہے۔بجلی کا ذکرہے اور یہ سب حادثات دنیا میں ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔کیا ان کے نزدیک یہ عذابِ الٰہی نہ تھے جن کا ذکر خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ان سب کا ہمیشہ دنیا میں وجود رہتا ہے مگر جب کثرت ہو اور ہولناک صورت سے ظاہر ہوں اور ایک دنیا میں تہلکہ پڑ جاوے تب یہ نشان ہیں۔وحی بھی اسی طرح سے ہمیشہ سے ہے۔ہمیشہ لوگوں کو سچے خواب آتے ہیں تو پھر انبیاء کی خصوصیت کیا ہوئی۔خصوصیت ہمیشہ کثرت اور درجہ کمال سے ہوتی ہے۔اب اس وقت جو ہلاکت مختلف طور سے ہو رہی ہے اس کی نظیر یہ دکھلا دیں۔گذشتہ دنوں میں عالی جناب احسان علی خانصاحب برادر نواب محمد علی خانصاحب مالیر کوٹلہ سے تشریف لائے تھے۔انہوں نے حضرت اقدس سے نیاز بھی حاصل کی تھی اور آپ نے ایک جامع تقریر بھی