ملفوظات (جلد 6) — Page 38
کہ شاکر اور سمجھدار بندے ہمیشہ کم ہوتے ہیں جو کہ حقیقی طور پر قرآن پر چلنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی محبت اور تقویٰ عطا کیا ہے وہ خواہ قلیل ہوں مگر اصل میں وہی سوادِاعظم ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اُمَّۃٌ کہا ہے۔حالانکہ وہ ایک فرد واحد تھے مگر سوادِ اعظم کے حکم میں تھے۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ جو لوگ شرارتوں، منصوبوں اور حیلہ بازیوں میں رہتے ہیں۔ان کا عمل ایک بالشت بھی آسمان پر جا سکے اور وہ ان نیک بندوں کے برابر ہوں،جن کی عظمت خدا کی نظر میں ہے۔عبد اللطیف کی ہی ایک نظیر دیکھ لو کہ بار بار موقع ملا کہ جان بچاوے مگر اس نے یہی کہا کہ میں نے حق کو پالیا اس کے آگے جان کیا شَے ہے۔سوچ کر دیکھو کیا جھوٹ کے واسطے دیدہ و دانستہ کوئی جان جیسی عزیز شَے دے سکتا ہے۔اکثر یت کی بد نصیبی ایک بد نصیبی ان لوگوں کی یہ ہے کہ آکر صحبت حاصل نہیں کرتے اور دور دور رہتے ہیں۔ان کے اسلام کی مثال ایک تصویر کی مثال ہے کہ اس میں نہ ہڈی، نہ گوشت، نہ پوست،نہ خُون،نہ روح اور پھر اسے انسان کہا جاتا ہے۔اپنی کثرت پر ناز کرتے ہیں۔کتاب اللہ کی عزّت نہیں کرتے حالانکہ اس کثرت پرآنحضرتؐنے لعنت کی ہے۔آپ نے دو گروہوں کا ذکر کیا ہے ایک اپنا اور ایک مسیح موعود کا اور درمیانی زمانہ کو جس میں ان کی تعداد کروڑوں تک پہنچی اور کثرت ہوئی، فیجِ اعوج کہا ہے پھر اصل میں یہ کثرت بھی نہیں ہے خود ان میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ہر ایک کا الگ الگ مذہب ہے۔ایک دوسرے کی تکفیر کررہا ہے۔جب یہ حال ہے تو خدا کی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے والا نہ آوے گا؟خود انہی میں سے ہیں جو مانتے چلے آئے ہیں کہ مسیح اسی اُمّت میں سے ہوگا حدیثوں میں اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ موجود ہے۔سورہ نور میں مِنْکُمْ ہے۔معراج میں آپؐنے اسرائیلی مسیح کا حلیہ اور دیکھا اور آنے والے اپنے مسیح کا اور حُلیہ بتلایا۔پھر کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر سب انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔ان تمام ثبوتوں کے بعد اَور ان کو کیا چاہیے۔۱ ۱الحکم جلد ۸نمبر۶مورخہ۱۷؍فروری۱۹۰۴ء صفحہ۱،۲ والبدر جلد ۳نمبر۶ مورخہ ۸؍فروری ۱۹۰۴ء و نمبر ۷ مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۲