ملفوظات (جلد 6) — Page 37
ہیں کہ کیا ہم نماز ادا نہیں کرتے،روزہ نہیں رکھتے، کلمہ نہیں پڑھتے۔ان کم بختوں کو اتنی خبر نہیں کہ جب آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے تو یہود بھی تو سب عبادتیں کرتے تھے پھر وہ کیوں مغضوب ہوئے؟ ان کی نہایت بد قسمتی اور شقاوت ہے کہ بھلا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے، دین کیا ہے۔کب کہا جاتا ہے کہ فلاں متقی ہے،فلاں مومن ہے۔صرف چھلکے اور پوست پر نازاں ہیں اور مغز کو ہاتھ سے کھو دیا ہے جو کہ دین کی اصل روح ہے۔اب خدا چاہتا ہے کہ وہ روح دوبارہ پیدا کرے۔اگر ان لوگوں میں تقویٰ اور معرفت ہو تو یہ اعتراض کرکے خود ہی نادم ہوں۔سوادِاعظم کی حقیقت ایک یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سوادِاعظم حیاتِ مسیح کا قائل ہے۔اگر سوادِاعظم کے یہ معنے ہیں کہ ایک گروہ کثیر ایک طرف ہو تو اس کی بات سچی ہوتی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود و عیسائی قوم کا بھی سوادِاعظم تھا۔وہ اہلِ کتاب ہی تھے۔بڑے بڑے عالم، فاضل، عابد ان میں موجود تھے۔ان کے معیار سے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ان کی شہادت معتبر مان لینی چاہیے۔اصل سوادِاعظم وہ لوگ ہیں جو حقیقی طور پر اللہ کو مانتے ہیں اورعلیٰ وجہ البصیرت خدا تعالیٰ پر ان کا ایمان ہے اور ان کی شہادت معتبر ہوتی ہے۔بھلا سوچ کر دیکھو کہ جس راہ میں بچھو، سانپ اور درندے وغیرہ ہوں۔کیا دس ہزار اندھے اس کی نسبت کہیں کہ یہ راہ اختیار کرو توکوئی ان کی بات مانے گا؟اور جو ان کے پیچھے چلیں گے وہ سب مَریں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں علیٰ وجہ البصیرت بلاتا ہوں اگرچہ آپ ایک فرد واحد تھے لیکن آپ کے مقابل ہزارہا منکرین کی بات قابلِ اعتبار نہ تھی جو آپ کی مخالفت کرتے تھے۔اب اس وقت ایک سوادِ اعظم نہیں ہے بلکہ کئی سوادِاعظم ہیں۔افیونیوں، بھنگیوں، چرسیوں، شرابیوں وغیرہ کا بھی ایک سوادِ اعظم ہے۔مخلوق پرستوں کا بھی ایک سوادِاعظم ہے توکیاان لوگوں کے اقوال کو سند پکڑا جاوے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ (سبا:۱۴)