ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 33

ملفوظات حضرت مسیح موعود آپ نے فرمایا کہ ۳۳ میں نے آواز تو رات کو ہی شناخت کر لی تھی مگر طبیعت کو تکلیف تھی اس لیے بلا نہ سکا۔ منشی صاحب موصوف نے جناب خان صاحب محمد خان صاحب افسر بگی خانہ سرکار کپورتھلہ مرحوم کی وفات کا واقعہ سنا یا جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ نیکی کرنے والے کی اولاد کو بھی اس کی نیکی کا حصہ ملتا ہے۔ یہ دنیا فنا کا مقام ہے اگر ایک مر جاتا ہے تو پھر دوسرے نے کون سا ذمہ لیا ہے کہ وہ نہ مریں گے۔ دُنیا کی وضع ایسی ہی ہے کہ آخر کار قضا و قدر کو ماننا پڑتا ہے۔ دنیا ایک سرا ہے اگر اس میں آتے ہی جاویں اور نہ نکلیں تو کیسے گزارہ ہو۔ انبیاء کے وجود سے زیادہ عزیز کوئی دوسرا وجود قدر کے لائق نہیں لیکن آخر ان کو بھی جانا پڑا۔ موت کے وقت اول انسان کو دہشت ہوتی ہے مگر جب مجبوراً وقت قریب آتا ہے تو اسے قضا و قدر پر راضی ہونا پڑتا ہے اور نیک لوگوں کے دلوں سے تعلقات دنیا وی خود اللہ تعالیٰ تو ڑ دیتا ہے کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ کے ۱۳ جنوری کو بمقام گورداسپور مولوی غلام حسین صاحب احمدی امام مسجد گمٹی بازار لاہور نے حضرت اقدس علیہ الصلوة والسلام سے آپ کی لاہور میں تشریف آوری کے لئے دریافت کیا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ لاہور میں جانے کی کوئی تاریخ تو مقرر نہیں ہے بشرط صحت اگر کوئی موقع ہوا تو میرا اپنا ارادہ ہے کہ وہاں جا کر زبانی طور پر تبلیغ کی جاوے لیکن خدا کا ارادہ غالب ہے مَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الله (التكوير : ۳۰) زبانی تبلیغ سنت انبیاء ہے اگر موقع نکل آیا تو اپنا دعوئی اور لوگوں کے اعتراضوں کی حقیقت کو بیان کیا جاوے اور یہ حصہ پورا ہو کر اتمام حجت ہو جاوے لیکن یہ امر ضروری ہے کہ طبیعت اچھی ہو۔ البدر جلد ۳ نمبر ۴ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۶