ملفوظات (جلد 6) — Page 32
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲ جلد ششم پھیل رہی ہے۔ اس سے منہ موڑ نا خوب نہیں ہر شخص جو اعتراض اور نکتہ چینیاں رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اس دروازہ پر بیٹھ کر اپنے شکوک کو رفع کرے لیکن جو یہاں تو بیٹھتا نہیں اور دریافت نہیں کرتا اور گھر جا کر نکتہ چینیاں کرتا ہے وہ خدا کی تلوار کے سامنے آتا ہے جس سے وہ بچ نہیں سکتا۔ دیکھو افترا کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مفتری ہمیشہ خائب و خاسر رہتا ہے۔ قَدْ خَابَ مَنِ افترای (طه: ۶۲) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ اگر تو افترا کرے تو تیری رگ جان ہم کاٹ ڈالیں گے اور ایسا ہی فرمایا مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام :۲۲) ایک شخص ان باتوں پر ایمان رکھ کر افترا کی جرات کیوں کر کر سکتا ہے ۔ ظاہری گورنمنٹ میں ایک شخص اگر فرضی چپڑاسی بن جائے تو اس کو سزادی جاتی ہے اور وہ جیل میں بھیجا جاتا ہے تو کیا خدا ہی کی مقتدر حکومت میں یہ اندھیر ہے کہ کوئی شخص جھوٹا دعوی مامور من اللہ ہونے کا کرے اور پکڑا نہ جائے بلکہ اس کی تائید کی جائے ۔ اس طرح تو دہریت پھیلتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں میں لکھا ہے کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے ۔ پھر کون نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ ۲۵ سال سے قائم ہے اور لاکھوں آدمی اس میں داخل ہو رہے ہیں یہ باتیں معمولی نہیں بلکہ غور کرنے کے قابل ہیں ۔ محض ذاتی خیالات بطور دلیل مانے نہیں جا سکتے ۔ ایک ہندو جو گنگا میں غوطہ مار کر نکلتا ہے اور کہتا ہے کہ میں پاک ہو گیا۔ بلا دلیل اس کو کون مان لے گا ؟ بلکہ اس سے دلیل مانگے گا۔ پس میں نہیں کہتا کہ بلا دلیل میرا دعویٰ مان لو۔ نہیں منہاج نبوت کے لیے جو معیار ہے اس پر میرے دعوی کو دیکھو۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں خدا سے وحی پاتا ہوں اور منہاج نبوت کے تینوں معیار میرے ساتھ ہیں اور میرے انکار کے لیے کوئی دلیل نہیں ۔ لے ۱۳ جنوری ۱۹۰۴ء (گورداسپور ) صبح کے وقت منشی محمد اروڑ ا صاحب نقشہ نویس ریاست کپورتھلہ نے حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۴ صفحه ۳ تا ۷ نیز البدر جلد ۳ نمبر ۲۱،۲۰ مورخه ۲۴ رمئی و یکم جون ۱۹۰۴ صفحه ۳ تا ۵