ملفوظات (جلد 6) — Page 31
پر اعتراض کریں صاف طور پر میرے مقابلہ میں آئیں۔میں ان سے پوچھوں گا کہ جس قسم کے نشانات میں اپنی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے پیش کرتا ہوں۔اس قسم کے نشانات تم بھی پیش کرو اور پھر اسی قدر تعداد میں دکھائو۔میں مرثیہ نہیں سنوں گا بلکہ نشانات کا مطالبہ کروں گا۔جس کو حوصلہ ہے اور جو امام حسین کو سجدے کرتے ہیں وہ ان کے خوارق اور نشانات کی فہرست پیش کریں اور دکھائیں کہ کس قدر لوگ ان واقعات کے گواہ ہیں۔اس مقابلہ میں یقیناًیہ ماننا پڑے گا کہ واقعات میں قافیہ تنگ ہے۔مبالغہ سے ایک بات کو پیش کردینا اَور ہے اور حقیقی طور سے واقعات کی بنا پر اسے ثابت کر دکھانا مشکل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا سچا پرستار ہے اسے کسی دوسرے سے کیا واسطہ؟ضرورت اس اَمر کی ہے کہ یہ ثابت کیا جاوے کہ آیا وہ شخص جو خدا کی طرف سے ہونے کا مدّ عی ہے اپنے ساتھ دلائل اور نشانات بھی دکھاتا ہے یا نہیں۔جب ثابت ہو جاوے کہ وہ واقعی خدا کی طرف سے ہے تو اس کافرض ہے کہ اپنی ارادت کو منتقل کرے۔غرض یہ تین ذریعے ہیں جن سے ہم کسی مامور من اللہ کو شناخت کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔میرا سلسلہ منہاجِ نبوت پر قائم ہوا ہے۔اس منہاج کو چھوڑ کر جو اس کو آزمانا چاہے وہ غلطی کھاتا ہے اور اس کو راہ ِراست مل نہیں سکتالیکن منہاجِ نبوت پرمیرے ساتھ دلائل وبراہین اور آیات اللہ کا زبردست لشکر ہے اگر کوئی اس پر بھی نہ مانے تو میں مجبور نہیں کرسکتا۔یہ کاروبار اور سلسلہ میرا قائم کردہ تو ہے نہیں۔خدا نے اس کو قائم کیا ہے اور وہی اس کی اشاعت کر رہا ہے۔انسانی تجاویز اور منصوبے چل نہیں سکتے آخر تھک کر رہ جاتے ہیں۔وہ شخص بڑا ہی ظالم اور خبیث ہے جو خود ایک بات گھڑ لیتا ہے اور پھر لوگوں کو کہتا ہے کہ مجھ کو وحی ہوئی ہے۔ایسے لوگ دنیا میں کبھی بامراد اور کامیاب نہیں ہوسکتے۔خدا تعالیٰ ایسے مفتری اور ظالم کو مہلت نہیں دیتا۔لیکن اگر ایک شخص خدا تعالیٰ کا نام لے کر ایک وحی پیش کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے سچا کرتا ہے اور اس کی تائید ونصرت کررہا ہے تو پھر اس سے انکار کرنا اچھا نہیں۔پس انسان کو چاہیے کہ شپّر کی طرح نہ ہو۔عجب روشنی اس وقت