ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 29

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹ جلد ششم رہی ہے تو تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ اور مکہ کے درمیان بھی ریل ہی دوڑتی نظر آئے گی اور پھر اخبارات اور رسالہ جات کی اشاعت کے اسباب کا پیدا ہو جانا جیسے پریس ہے ڈاک خانہ ہے اور تاروں کے ذریعہ سے کل دنیا ایک شہر کے حکم میں ہو گئی ہے۔ دریا چیرے گئے ہیں اور نہریں نکالی جا رہی ہیں۔ طبقات الارض کے عالموں نے زمین کے طبقات کو کھود ڈالا ہے غرض وہ تمام ایجادات اور علوم وفنون کی ترقیاں جو مسیح موعود کے زمانہ کی علامتوں میں سے قرار دی گئی تھیں وہ پوری ہورہی ہیں اتعالیٰ کی طرف اور ہو چکی ہیں۔ اس کے بعد انکار اور شبہ کی کون سی گنجائش باقی رہتی ہے اس وقت خدا تعالیٰ سے کسی کا آنا اور مامور ہونا افسوس ناک بات نہیں بلکہ افسوس ناک یہ امر ہوتا اگر کوئی مامور ہو کر نہ آیا ہوتا۔ ان علامات اور نشانات کو چھوڑ کر ایک اور بات بھی اس کی تائید میں ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام اولیاء اللہ اور اکابر امت جو پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے قبل از وقت میرے آنے کی خبر دی ہے۔ بعض نے میرا نام لے کر پیشگوئی کی ہے اور بعض نے اور الفاظ میں بھی کی ہے۔ ان میں سے شاہ نعمت اللہ ولی نے شہادت دی ہے اور میرا نام لے کر بتایا ہے۔ اسی طرح پر ایک اہل اللہ بزرگ گلاب شاہ مجذوب تھے جنہوں نے ایک شخص کریم بخش ساکن جمالپور ضلع لودھیانہ سے میرا نام لے کر پیشگوئی کی ہے اور اس نے کہا کہ وہ قادیان میں ہے کریم بخش کو قادیان کا شبہ پڑا کہ شاید لو دھیانہ کے قریب کی قادیان میں ہوں ۔ مگر آخر اس نے بتایا کہ یہ قادیان نہیں اور اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لو دھیانہ میں آئے گا اور مولوی اس کی مخالفت کریں گے۔ چنانچہ اس کا یہ سارا بیان چھپ چکا ہے اور گل گاؤں کریم بخش کی راست بازی اور نیکوکاری کی شہادت دیتا تھا اور جس وقت وہ بیان کرتا تھا تو رو پڑتا تھا۔ اس نے گلاب شاہ سے یہ بھی کہا کہ عیسی تو آسمان سے آئے گا اس نے جواب دیا کہ جو آسمان پر چلا جاتا ہے وہ پھر واپس نہیں آیا کرتا۔ اس پیشگوئی کے موافق کریم بخش میری جماعت میں داخل ہوا۔ بہت سے لوگوں نے اس کو روکا اور منع بھی کیا مگر اس نے کہا کہ میں کیا کروں یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے میں اس شہادت کو کیوں کر چھپاؤں ۔ غرض اس طرح پر بہت سے اکابر امت گذرے ہیں جنہوں نے میرے لیے پیشگوئی کی