ملفوظات (جلد 6) — Page 28
سلسلہ کے مقابل پر واقع ہوا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ ہے چنانچہ تورات میں بھی آپ کو مثیلِ موسیٰ کہا گیا اور قرآن شریف میں بھی آپ کو مثیلِ موسیٰ ٹھہرایا گیا جیسے فرمایا ہے۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزمل:۱۶) پھر جس طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ حضرت مسیح علیہ السلام پرآکر ختم ہو گیا۔اسی سلسلہ کی مماثلت کے لیے ضروری تھا کہ اسی وقت اور اسی زمانہ پر جب حضرت مسیحؑ حضرت موسٰی کے بعد آئے تھے مسیح محمدی بھی آتا اور یہ بالکل ظاہر اور صاف بات ہے کہ مسیح موسو ی چو دہویں صدی میں آیا تھا۔اس لیے ضروری تھا کہ مسیح محمدی بھی چو دہویں صدی میں آتا۔اگر کوئی اور نشان اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی اس سلسلہ کی تکمیل چاہتی تھی کہ اس وقت مسیح محمدی آوے مگر یہاں تو صدہا اور نشان اور دلائل ہیں۔پھر آنے والے کو اسی اُمّت میں سے ٹھہرایا گیا ہے جیسے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ(النّور:۵۶)میں فرمایاگیا ہے اور اسی طرح پر احادیث میں بھی آنے والا اسی اُمّت سے ٹھہرایا گیا ہے جبکہ فرمایا ہے وَ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔اب نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ بو ضاحت شہادت دیتے ہیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی اُمّت میں سے ہوگا اور ضرورت بجائے خود داعی ہے کیونکہ اسلام پر سخت حملے ہو رہے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ جہاں تک ان مخالفوں کا بس چلے اسلام کو نابود کردیں۔پھر دیکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ اس کے آنے کا وقت کون سا ہے۔سلسلہ موسوی کے ساتھ مماثلتِ تامّہ کا تقاضا صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ آنے والا مسیح موعود جو اسی اُمّت میں سے ہوگا۔چودہویں صدی میں آنا چاہیے۔اس کے علاوہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے آنے کا وہ وقت ہے جبکہ صلیب پرستی کا غلبہ ہوگا کیونکہ کسرِ صلیب اس کا کام ٹھہرایا گیا ہے۔ان سب کے علاوہ ایک انقلاب عظیم کی خبر قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ اس وقت آئے گا۔وہ انقلاب کیا ہے؟سواری بھی بدل جاوے گی۔اونٹوں اور اونٹنیوں کی سواریاں بیکار ہو جائیں گی۔اب دیکھو کہ ریلوے کی ایجاد نے اس پیشگوئی کو کس طرح پورا کیا ہے اور اب تو یہ حال ہے کہ حجاز ریلوے جو بن