ملفوظات (جلد 6) — Page 347
اگر انسان اس اَمر کو سمجھ لے اور وہ دعا کے راز سے آگاہ ہو جاوے تو اس میں اس کی بڑی ہی سعادت اور نیک بختی ہے اور اس صورت میں سمجھو کہ گویا اس کی ساری ہی مرادیں پوری ہوگئی ہیں۔ورنہ دنیا کے ھمّ و غم تو اس قسم کے ہیں کہ انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔رُو بخدا ہوجاؤ جو شخص رو بدنیا ہوتا ہے وہ تھوڑی دور چل کر رہ جاتا ہے کیونکہ نامُرادیاں اور ناکامیاں آخر آکر ہلاک کر دیتی ہیں لیکن جو شخص ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ رُو بخدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کے لیے اس کی سب حرکات و سکنات ہوتی ہیں تو خدا تعالیٰ دنیا کو بھی ناک سے پکڑ کر اس کا خادم بنا دیتا ہے۔اگرچہ اس حالت میں بہت فرق ہوتا ہے۔دنیا دار تو دنیا کا دیوانہ ہوتا ہے لیکن یہ رُو بخدا شخص جس کی دنیا خادم کی جاتی ہے دنیا اور اس کی لذّتوں میں کوئی لذّت نہیں پاتا بلکہ ایک قسم کی بد مزگی ہوتی ہے کیونکہ وہ لُطف اور ذوق دنیا کی طرف نہیں ہوتا بلکہ کسی اور طرف ہو جاتا ہے۔انسان جب خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اور ساری راحت اور لذّت اللہ تعالیٰ ہی کی رضا میں پاتا ہے تو کچھ شک نہیں دنیا بھی اس کے پاس آجاتی ہے مگر راحت کے طریق اور ہوجائیں گے۔وہ دنیا اور اس کی راحتوں میں کوئی لذّت اور راحت نہیں پاتا۔اسی طرح پر انبیاء اور اولیاء کے قدموں پر دنیا کو لا کر ڈال دیا گیا ہے مگر ان کو دنیا کا کوئی مزا نہیں آیا کیونکہ ان کا رخ اور طرف تھا۔یہی قانون قدرت ہے جب انسان دنیا کی لذّت چاہتا ہے تو وہ لذّت اسے نہیں ملتی لیکن جب خدا تعالیٰ میں فنا ہو کر دنیا کی لذّت کو چھوڑتا ہے اور اس کی آرزو اور خواہش باقی نہیں رہتی تو دنیا ملتی ہے مگر اس کی لذّت باقی نہیں رہتی۔یہ ایک مستحکم اصول ہے اس کو بھولنا نہیں چاہیے۔خدا یابی کے ساتھ دنیا یابی وابستہ ہے۔خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے گا اسے تمام مشکلات سے نجات ملے گی اور ایسے طور پر اسے رزق دے گا کہ اسے علم بھی نہ ہوگا۔یہ کس قدر برکت اور نعمت ہے کہ ہر قسم کی تنگی اور مشکل سے آدمی نجات پاجاوے اور اللہ تعالیٰ اس کے رزق کا کفیل ہو لیکن یہ بات جیسا کہ خود اس نے فرمایا تقویٰ کے ساتھ وابستہ ہے اور کوئی اَمر اس کے ساتھ نہیں بتایا کہ دنیوی مکر و فریب سے