ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 333

کے نادم اور تائب ہونے پر اس کے قصوروں کو معاف کر دے کیونکہ خود انسان میں بھی یہ وصف ایک حد تک پایا جاتا ہے۔پھر تعجب کی بات ہوگی کہ انسان تو توبہ اور معافی پر قصور معاف کر دے اور خدا تعالیٰ ایسا کینہ توز (معاذ اللہ ) ہو کہ اسے کسی طرح رحم ہی نہ آوے؟ یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے بلکہ صحیح اعتقاد وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ خدا تعالیٰ بڑا ہی کریم اور رحیم ہے اور وہ سچے رجوع اور حقیقی توبہ پر گناہ بخش دیتا ہے۔اس کے بالمقابل عیسائی جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ اور بھی عجیب ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو رحیم تو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ رحیم ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیںکہ رحم بِلامبادلہ نہیں کر سکتا جب تک بیٹے کو پھانسی نہ دے لے اس کا رحم کچھ بھی نہیں کر سکتا۔تعجب اور مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔جب اس عقیدہ کے مختلف پہلوؤوں پر نظر کی جاتی ہے اور پھر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی بھی دیا لیکن یہ نسخہ رحم پھر بھی خطا ہی گیا۔سب سے اوّل تو یہ کہ یہ نسخہ اس وقت یاد آیا جب بہت سی مخلوق گناہ کی موت سے تباہ ہوچکی اور ان پر کوئی رحم نہ ہوسکا کیونکہ پہلے کوئی بیٹا پھانسی پر نہ چڑھا اور علاوہ بریں اگرچہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ زید کے سرمیں درد ہو اور بکر اپنا سر پتھر سے پھوڑے اور یہ سمجھا جاوے کہ اس نسخہ سے زید کو آرام ہو جاوے گا لیکن اس کو بفرضِ محال مان کر بھی اس نسخہ کا جو اثر ہوا ہے وہ تو بہت ہی خطر ناک ہے۔جب تک یہ نسخہ استعمال نہیں ہوا تھا اکثر لوگ نیک تھے اور توبہ اور استغفار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کی کوشش کرتے تھے۔مگر جب یہ نسخہ گھڑا گیا کہ ساری دنیا کے گناہ خدا بیٹے کے پھانسی پانے کے ساتھ معاف ہوگئے تو اس سے بجائے اس کے کہ گناہ رکتا، گناہ کا ایک اور سیلاب جاری ہوگیا اور وہ بند جو اس سے پہلے خدا کے خوف اور شریعت کا لگا ہوا تھا ٹوٹ گیا۔جیسا کہ یورپ کے حالات سے پتا لگتا ہے کہ اس مسئلہ نے وہاں کیا اثر کیا ہے اور فی الحقیقت ہونا بھی یہی چاہیے تھا پھر جب یہ باتہے اور حالت ایسی ہے تو ہم کیوںکر تسلیم کریں کہ وہ خدا جو اس رنگ میںدنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ حقیقی خدا ہے۔اس قسم کی غلط تعلیمیں دنیا میں جاری ہوچکی ہیں اور حقیقی خدا کا چہرہ چھپا ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ نے