ملفوظات (جلد 6) — Page 26
کی ہے کہ نبوت کے ثبوت دیکھو اس میں ہیں یا نہیں جبکہ انبیاء علیہم السلام کے خواص اور نشانات اس کے ساتھ ہیں تو پھر تمہیں ماننے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے۔اسی طرح پر انہوں نے ملا کی نبی کی کتاب میں پڑھا ہو اتھا کہ حضرت عیسٰیؑ کے آنے سے پہلے ایلیا آسمان سے اُترے گا لیکن جب حضرت مسیح نے اپنادعویٰ پیش کیا تو اس وقت یہود اسی ابتلا میں پھنسے۔انہوں نے مسیح سے یہی سوال پیش کیا کہ ایلیا کا آسمان سے آنا ضروری ہے۔وہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ سچ مچ وہی ایلیا آئے گا اور ایک طرح پر وہ یہ معنی سمجھنے میں حق پر تھے کیونکہ اس سے پہلے کوئی ایسا واقعہ اورنظیر ان میں موجود نہ تھی۔لیکن حضرت مسیح نے یہی کہا کہ آنے والا ایلیا یوحنا بن زکریا کے رنگ میں آگیا ہے۔وہ اس بات کو بھلا کب مان سکتے تھے۔ایک یہودی نے اس مضمون پر ایک کتاب لکھی ہے اور وہ لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہم مسیح پر کس طرح ایمان لائیں بلکہ وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ اگر ہم سے مواخذہ ہوگا تو ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر آگے رکھ دیں گے۔مامور من اللہ کی شناخت کے معیار غرض ظاہر الفاظ پر آنے والے بعض اوقات سخت دھوکا کھا جاتے ہیں۔پیشگوئیوں میں استعارات اور مجازات سے ضرور کام لیا جاتاہے۔جو شخص ان کو ظاہر الفاظ پر ہی حمل کر بیٹھتا ہے اسے عموماً ٹھوکر لگ جاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ایسے موقع پر یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آیا جو شخص خدا کی طرف سے آنے کا مدّعی ہے وہ ان معیاروں کے روسے سچا ٹھہرتا ہے یا نہیں جو راستبازوں کے لیے مقرر ہیں؟ پس اگر وہ ان معیاروں کے رُو سے صادق ثابت ہو تو سعادت مند اور متقی کا یہ فرض ہے کہ اس پر ایمان لاوے۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء کی شناخت کے لیے تین بڑے معیار ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ بھی اس کی مؤید ہیں یا نہیں۔دوم اس کی تائید میں سماوی نشانات صادر ہوتے ہیں یا نہیں۔سوم نصوصِ عقلیہ اس کے ساتھ ہیں یا نہیں یا آیا وقت اور زمانہ کسی ایسے مدعی کی ضرورت بھی بتاتا ہے یانہیں؟