ملفوظات (جلد 6) — Page 328
بِلا تاریخ (بمقام لاہور) صبح سے شام تک خاص و عام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے تشریف لاتے۔۔۔۔عام پبلک کے علاوہ بعض فقرا بھی آتے اور کھڑے ہو کر نعرے لگاتے۔ایک ان میں سے سبز پوش صاحب جو کہ ریشمی کرتہ یا چوغہ زیبِ تن کئے ہوئے اور ایک مخمل کی ٹوپی جس پر گوٹہ کناری سے کلمہ شریف اور کچھ اور عبارتیں لکھی ہوئی تھیں۔سر پر دھرے ہوئے تشریف لائے اور ملاقات کیخواہش ظاہر کی۔حضور کی خدمت میں پہنچ کر اس نے سوال کیا کہ عاشق ہو یا معشوق۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے سب کچھ کتابوں میں لکھ دیا ہے۔وہاں دیکھ لو۔اس پر اس نے سوال کیا کہ جو کچھ کتابوں میں لکھا ہے کیا وہ سب سچ ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔اس پر اس نے درخواست کی کہ اسے تحریر فرما دیجئے۔آپ نے حکم دیا کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔ہم لکھ دیویں گے۔چنانچہ ایک ہفتہ کے بعد جب وہ سائیں صاحب ۲۸؍تاریخ کو تشریف لائے تو آپ نے یہ عبارت لکھ کر اور اپنی مہر ثبت کر کے ان کے حوالے کی۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جو جھوٹوں پر لعنت کرتا ہے یہ گواہی دیتا ہوں کہ جو کچھ میں نے دعویٰ کیا ہے۔یا جو کچھ اپنے دعویٰ کی تائید میں لکھا ہے۔یا جو میں نے الہامِ الٰہی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں۔وہ سب صحیح ہے سچ ہے اور درست ہے۔والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ الراقم خاکسار مرزا غلام احمد۱ ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱تا۶