ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 327

ایک بھی زندہ نہ رہتا وہ اس قدر آپؐکے عشق اور محبت میں فنا شدہ تھے۔حسان بن ثابتؓنے اس موقع پر ایک مرثیہ لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں۔کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیْکَ النَّاظِرٗ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ یعنی اے میرے پیارے نبی تُو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا اور میرے دیدوں کا نور تھا پس میں تو تیرے مَرنے سے اندھا ہوگیا۔اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کیا غم کروں۔عیسٰیؑ مَرے یا موسٰی مَرے، کوئی مَرے۔مجھے تو تیرے ہی مَرنے کا غم تھا۔صحابہؓ کی تو یہ حالت تھی مگر اس زمانہ میں اپنے منہ سے اقرار کرتے ہیں کہ نہیں افضل الانبیاء وفات پاگئے اور حضرت مسیح زندہ ہیں۔افسوس مسلمانوں کی حالت کیا سے کیا ہو گئی۔میں خوب جانتا ہوں اور اس واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کا پہلا اجماع مسیح کی وفات ہی پر ہوا تھا۔پھر ان کے خلاف کرنا یہ کون سی عقلمندی اور تقویٰ ہے۔میں یہ مانتا ہوں کہ یہ غلطیاں امتدادِ زمانہ کی وجہ سے ہیں۔تقویٰ نہیں رہا۔جہالت بڑھ گئی ہے۔رو بحق ہونا کم ہوگیا ہے۔راہِ راست محجوب ہوگیا ہے اور یہی امور ہیں جو میری ضرورت کے داعی ہیں۔میں آخر میں پھرکہتا ہوں کہ ان باتوں پر غور کرو۔اپنے گھروں میں جا کر تنہائی میں سوچو کہ تم چاہتے ہو کہ اسلام اَور سو سال تک آفتوں کا نشانہ بنا رہے اگر اب تک کوئی نہیں آیا توپھر صدی کا سر تو چلا گیا۔بائیس برس گذر چکے۔اب اور سو سال تک انتظار کرو۔لیکن یاد رکھو کہ اگر مجھے قبول نہ کرو گے تو پھر تم کبھی بھی آنے والے موعود کو نہیں پاؤ گے۔میں نے اتنی باتیں کی ہیں۔بعض مخالفوں کو فائدہ کی بجائے جوش آئے گا اور وہ ہار جیت کی طرف توجہ کریں گے یہ نہیں کہ رو رو کر دعائیں کریں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق اور مدد چاہیں۔میری یہی نصیحت ہے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دو اور خدا ترسی سے ان باتوں پر غور کرو اور تنہائی میں سوچو اور آخر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ وہ دعائیں سنتا ہے۔۱