ملفوظات (جلد 6) — Page 319
لیے اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں۔مگر یہ لوگ اس ترتیب کو غلط (معاذ اللہ) ٹھہراتے ہیں۔اور کہتے کہ رَافِعُكَ اِلَيَّ کی جگہ رَافِعُكَ اِلَی السَّمَآءِ الثَّانِیَۃِ چاہیے اور اس کے بعد مُتَوَفِّيْكَ چاہیے۔گویا کہ ان کے اعتقاد کے موافق خدا تعالیٰ کو غلطی لگی۔اس نے کہنا تو یہ تھا يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ رَافِعُكَ اِلَی السَّمَآءِ الثَّانِیَۃِ وَمُتَوَفِّيْكَ اور کہہ دیا یہ جو آیت میں درج ہے۔اب میں قرآن کو چھوڑتا ہوں اور اس کے خلاف کہتا ہوں یا یہ خود کرتے اور کہتے ہیں۔انصاف سے بولو اگر یہ تحریف نہیں تو کیا ہے۔اسی پر مجھے کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن کے خلاف ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قرآن کی تحریف ہے جس سے یہودیوں پر لعنت پڑی اور وہ سؤر اور بندر بنے۔یہودی جو تحریف کرتے تھے ان کے متعلق بھی یہی فرمایا ہے يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ (النّسآء:۴۷) اور جب تم بھی اسی قسم کی تحریف کرتے ہو تو قرآن شریف پر تمہارا اچھا ایمان ہے۔میں زور سے کہتا ہوں کہ کیا وہ دل خدا ترس ہے اور اس میں تقویٰ کا حصّہ ہے جو خدا تعالیٰ کے کلام میں تصرّف کرنا چاہتا ہے۔اگر تم سچے ہو اور تحریف نہیں کرتے تو پھر وہ حدیث صحیح پیش کرو جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ رَافِعُكَ اِلَيَّ کی بجائے رَافِعُكَ اِلَی السَّمَآءِ الثَّانِیَۃِ چاہیے اور یہ متوفّی سے پہلے ہے۔قرآن شریف میں جو لکھا ہوا ہے وہ غلط ہے اور تم سن رکھو کہ ہرگز ہرگز کوئی شخص ایسی حدیث صحیح پیش کرنے پر قادر نہ ہوگا۔جس قدر صاحب یہاں موجود ہیں آخر ہوش و حواس رکھتے ہیں وہ انصاف سے کہیں کہ اگر کوئی شخص تمسک کو الٹ پلٹ کرتا ہے تو وہ جعلسازی کا مرتکب ہوتا ہے یا نہیں اور وہ اس جعلسازی کی سزا میں جیل میں بھیجا جاتا ہے۔پھر یہ اندھیر کیوں روا رکھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو الٹ پلٹ کیا جاوے۔خدا سے ڈرو یہ بہت خطرناک دلیری ہے۔ہاں اگر صحیحین میں کوئی حدیث درج ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پر فرمایا ہے تو پیش کرو ہم مان لیں گے۔لیکن اگر تم پیش نہ کرو اورنہیں کر سکو گے تو یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ خود کہہ دو اور دوسری غلطیوں کو قرآن شریف کی