ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 305

ہوتی ہے جو اسے کشاں کشاں آگے لیے جاتی ہے۔برخلاف اس کے وہ مصیبت اور تکالیف جو انسان کی اپنی بد کرداری کی وجہ سے اس پر آتی ہے وہ وہ مصیبت آتی ہے جس میں ایک درد اور سوزش ہوتی ہے جو اس کی زندگی اس کے لیے وبال جان کر دیتی ہے وہ موت کو ترجیح دیتا ہے مگر نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ مَرکر بھی ختم نہیں ہوگا۔غرض بَلاؤں کے نزول میں ہمیشہ سے قانون قدرت یہی ہے کہ جو بَلائیں شامتِ اعمال کی وجہ سے آتی ہیں وہ الگ ہیں اور خدا کے راستبازوں اور پیغمبروں پر جو بَلائیں آتی ہیں وہ ان کی ترقی درجات کے لیے ہوتی ہیں۔بعض جاہل جو اس راز کو نہیں سمجھتے وہ جب بَلاؤں میں مبتلا ہوتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اس بَلا سے فائدہ اٹھائیں اور کم از کم آئندہ کے لیے مفید سبق حاصل کریں اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کریں کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم پر مصیبت آئی تو کیا ہوا نبیوں اور پیغمبروں پر بھی تو آجاتی ہیں حالانکہ ان بَلاؤں کو انبیاء کی مشکلات اور مصائب سے کوئی نسبت ہی نہیں۔جہالت بھی کیسی بُری مرض ہے کہ انسان اس میں قیاس مع الفارق کر بیٹھتا ہے۔یہ بڑا دھوکا واقع ہوتا ہے جو انسان تمام انبیاء کی مشکلات کو عام لوگوں کی بَلاؤں پر حمل کر لیتا ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے انبیاء اور دوسرے اخیار و ابرار کی بَلائیں محبت کی راہ سے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو ترقی دیتا جاتا ہے اور یہ بَلائیں وسائل ترقی میں سے ہیں لیکن جب مفسدوں پر آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اس عذاب سے تباہ کرنا چاہتا ہے۔وہ بَلائیں ان کے استیصال اور نیست و نابود کرنے کا ذریعہ ہوجاتی ہیں۔یہ ایسا فرق ہے کہ دلائل کا محتاج نہیں ہے کیونکہ جب اچھے آدمی جو اللہ تعالیٰ کو مقدم کر لیتے ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کیوں کرتے ہیں۔بہشت اور دوزخ ان کے دل میں نہیں ہوتا اور نہ بہشت کی خواہش یا دوزخ کا ذکر ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا محرک ہوتا ہے بلکہ وہ طبعی جوش اور طبعی محبت سے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے اور اس کی اطاعت میں محو ہوتے ہیں۔ان پر جب کوئی بَلا آتی ہے تو وہ خود محسوس کر لیتےہیں کہ یہ از راہ محبت ہے۔وہ دیکھتے ہیں کہ ان بَلاؤں کے ذریعہ ایک چشمہ کھولا جاتا ہے جس سے وہ