ملفوظات (جلد 6) — Page 297
امید ہے کہ اپنے اپنے وقت پر وہ آجاویں گے۔خود لاہور میں ایک شخص نے ملاقات کی اور کہا کہ میں آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا معاف کرو اب میرے شکوک رفع ہو گئے ہیں اور ہزاروں خطوط اس قسم کے آئے ہیں کہ میں اوّل ابوجہل تھا۔اب توبہ کرتا ہوں۔بعضوں نے بذریعہ خواب کے مانا اور اکثر کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشف میں یا خواب میں کہا کہ تم قبول کر لو۔جو لوگ بُغض کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ خدا کی تیز دھار کو روک لیویں مگر وہ کسی کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔اگر انسانی کاروبار ہوتا تو آج تک کب کا تباہ ہو جاتا۔مجھے دعویٰ کئے ہوئے چوبیس۲۴ برس سے زیادہ عرصہ گذر گیا۔کیا ایک مفتری کو اس قدر مہلت مل سکتی ہے کہ اگر کسی کو عقل، فہم اور موت کا ڈر ہو تو وہ براہین کے وقت کو دیکھے کہ جو پیشگوئیاں اس میں ہیں وہ کیسے پوری ہو کر رہیں لیکن بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے اور وہ دل کے تالے نہ کھولے تو کس طرح سمجھ میں آوے۔کوئی بتاوے تو سہی کہ جب سے دنیا ہوئی ہے کسی مفتری نے اس قسم کی پیشگوئی بھی کی ہے۔خدا سے خوف کرنے والے کے لیے تو ایک ہی نشان کافی ہو سکتا ہے۔لیکن ان لوگوں نے اس قدر کثیر نشانوں سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔غرض مدعا یہ ہے کہ یہ تمام باتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو ہدایت قبول کرتے ہیں نہ کہ منکروں کے لیے جن کے واسطے اللہ کا قانون اور ہے۔تم خدا سے پناہ مانگو کہ ان کے لیے جو قانون ہے اس میں تم کو داخل نہ کرے۔ہمیشہ نیک دل خدا کی رحمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ نہ خیال کرو کہ یہ لوگ مذہب میں پکے ہیں۔بڑے بز دل ہوتے ہیں۔قہر الٰہی کا ذرا نہیں مقابلہ کر سکتے۔لیکن یاد رکھیں کہ یہ ایسا زمانہ ہے جس کے لیے سب نبیوں کی پیش گوئیاں ہیں اور جیسے مختلف نہریں مل کر ایک دریا بن کر بہہ نکلتی ہیں اسی طرح ان پیش گوئیوں کا سیلاب بہہ نکلے گا اور آدمؑ، موسٰی، ابراہیمؑ وغیرہ پیغمبروں نے جو کچھ کہا وہ سب پورا ہو کر رہے گا۔بعض رحمت کے نشان بھی ہوں گے مگر ان سے انہی کو حصّہ ملے گا جو عاجز، فروتن اور خائف اور تائب ہوں گے اور جو منکر ہیں وہ قہری نشان سے حصّہ لیں گے۔اگرچہ یہ لوگ اس وقت انکار کو نہیں چھوڑتے اور صرف ماں باپ یا جاہل لوگوں سے سن سنا کر غلط عقائد پر