ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 22

میں یہ ایک راہ راست باز کی شناخت کی رکھی ہے مگر افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔اس کے سوا اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدہ دیا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (اٰل عـمران:۵۶) کہ میں تیری جماعت اور تیرے گروہ کو منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا اور ان میں ترقی اور عروج دوں گا۔مَیں اس بات کا کیوں کر انکار کرسکتا ہوں۔میں بخوبی جانتا ہوں کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ملوک،ملکدار، تاجر اور ہر قسم کے معزز لوگ یہی ہوں گے۔لوگوں کے نزدیک یہ انہونی بات ہے مگر میں یقیناً جانتاہوں یہی ہوگا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے بلکہ مجھے وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے ہیں جو گھوڑوں پر سوار تھے۔یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اب اس وقت کوئی اس کو باوَر نہیں کرسکتا۔لیکن میں جانتا ہوں کہ ایسا ہوگا۔جب آنحضرتؐنے کہا تھا کہ دین ودنیا ان میں ہی آجائیں گے اس وقت کسی کو خیال ہوسکتا تھا کیونکہ اتنے آدمی صرف آپ کے ساتھ تھے جو ایک چھوٹے حجرہ میں آجاتے تھے اور لوگ ایسی باتوں کو سن کر اور گھر جا کر استہزا کرتے تھے کہ گھر سے باہر نکلنے کا موقع نہیں ملتا اور یہ دعوے ہیں۔آخر سب کو معلوم ہوگیا کہ جو فرمایا تھا وہ سچ تھا۔مامور اپنی ابتدائی حالت میں ہلال کی طرح ہوتا ہے۔ہر ایک شخص اس کو نہیں دیکھ سکتا لیکن جو تیز نظر ہوتے ہیں وہ دیکھ لیتے ہیں اسی طرح پر سعیدالفطرت مومن مامور کو اس کی ابتدائی حالت میں جبکہ وہ ابھی مخفی رہتا ہے شناخت کر لیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ماننے والوں کا نام سابقین رکھا ہے لیکن جب بہت سے مسلمان فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے تو ان کا نام صرف ناس رکھا گیا جیسے فرمایا اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النصـر:۲،۳) حقیقت یہی ہے کہ جب حق کھل جاتا ہے پھر انکار کی گنجائش نہیں رہتی جیسے جب دن چڑھا ہوا ہے تو پھر بُجز شپْرک کے کون انکار کرے گا۔