ملفوظات (جلد 6) — Page 280
محسوس کرتا ہے، لیکن ایسی حالت میں بھی اسے ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہیے کہ اب یہ طاقت مجھ میں مستقل طور پر پیدا ہوگئی ہے اور کبھی ضائع نہ ہوگی۔جیسے دیوار پر دھوپ ہو تو اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہوتے کہ یہ ہمیشہ ایسی ہی روشن رہے گی اسی پر لوگوں نے ایک مثال لکھی ہے کہ دیوار جب دھوپ سے روشن ہوئی تو اس نے آفتاب کو کہا کہ میں بھی تیری طرح روشن ہوں۔آفتاب نے کہا کہ رات کو جب میں نہ ہوں گا تو پھر تو کہاں سے روشنی لے گی۔اسی طرح انسان کو جو روشنی عطا ہوتی ہے وہ بھی مستقل نہیں ہوتی بلکہ عارضی ہوتی ہے اور ہمیشہ اسے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے استغفار کی ضرورت ہے انبیاء جو استغفار کرتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان کو خطرہ لگا رہتا ہے کہ نور کی جو چادر ہمیں عطا کی گئی ہے ایسا نہ ہو کہ وہ چھن جاوے۔استغفار کی حقیقت نادان لوگ لاعلمی کی وجہ سے یہ کہتے اور فخر کرتے ہیں کہ مسیح استغفار نہ کرتا تھا۔حالانکہ یہ بات کسی قسم کے ناز کی نہیں بلکہ رونے اور افسوس کرنے کی ہے کہ اگر وہ استغفار نہ کرتا تھا تو گویا اس نور سے بالکل محروم تھا جو کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کو عطا کیا کرتا ہے۔کوئی نبی جس قدر زیادہ استغفار کرنے والا ثابت ہوگا اسی قدر اس کا درجہ بڑا اور بلند ہوگا لیکن جس کو یہ حالت حاصل نہیں تو وہ خطرہ میں ہے اور ممکن ہے کہ کسی وقت اس سے وہ چادر حفاظت کی چھین لی جاوے کیونکہ نبیوں کو بھی وہ مستعار طور پر ملتی ہے اور وہ پھر استغفار کے ذریعہ اسے مدامی طور پر رکھتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اصل انوار تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اور نبی ہو یا کوئی اور، سب خدا سے انہیں حاصل کرتے ہیں۔سچے نبی کی یہی علامت ہے کہ وہ اس روشنی کی حفاظت بذریعہ استغفار کے کرے۔استغفار کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ موجودہ نور جو خدا سے حاصل ہوا ہے وہ محفوظ رہے۔اور زیادہ اور ملے۔اسی کی تحصیل کے لیے پنجگانہ نماز بھی ہے تاکہ ہر روز دل کھول کھول کر اس روشنی کو خدا سے مانگ لیوے جسے بصیرت ہے وہ جانتا ہے کہ نماز ایک معراج ہے اور وہ نماز ہی کی تضرع اور ابتہال سے بھری ہوئی دعا ہے جس سے یہ امراض سے رہائی پا سکتا ہے۔وہ لوگ بہت بیوقوف ہیں جو دوری ڈالنے والی تاریکی کا علاج نہیں کرتے۔