ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 279

کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتےہیں تو خدا کے قہر اور اس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔اس لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔بغیر اس کے یقین کامل ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ اسی وقت حاصل ہوگا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔گناہ سے بچنے کے لیے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو اور ساتھ ہی ساتھ دعا بھی کرتے رہو اور خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضاو قدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں جب تک خدا کی مدد ساتھ نہ ہو ہرگز رہائی نہیں ہوتی۔نماز جوکہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہرگز نہ ہوگی۔نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔نماز وہ شَے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔جہاںتک طاقت ہے وہاں تک رقّت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تضرع سے دعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفسِ امّارہ کی شوخی کم ہوگئی ہے۔جیسے اژدہا میں ایک سمِّ قاتل ہے۔اسی طرح نفسِ امّارہ میں بھی سمِّ قاتل ہوتا ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے۔کبھی یہ دعویٰ نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَلَاتُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ(النّجم:۳۳) کہ تم اپنے آپ کو مزکّٰی مت کہو۔وہ خود جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے۔جب انسان کے نفس کا تزکیہ ہوجاتا ہے تو خدا اس کا متولّی اور متکفّل ہوجاتا ہے اور جیسے ماں بچے کو گود میں پرورش کرتی ہے اسی طرح وہ خدا کی گود میں پرورش پاتا ہے اور یہی حالت ہے کہ خدا کا نور اس کے دل پر گر کر کل دنیاوی اثروں کو جلا دیتا ہے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر