ملفوظات (جلد 6) — Page 278
ہو۔ورنہ ادھر بیعت کی اور جب گھر میں گئے تو وہی بُرے خیالات اور حالات رہے تو اس سے کیا فائدہ۔یقیناً مان لو کہ تمام گناہوں سے بچنے کے لیے بڑا ذریعہ خوفِ الٰہی ہے اگر یہ نہیں ہے تو ہرگز ممکن نہیں کہ انسان ان سب گناہوں سے بچ سکے جو کہ اسے مصری پر چیونٹیوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔مگر خوف ہی ایک ایسی شَے ہے کہ حیوانات کو بھی جب ہو تو وہ کسی کا نقصان نہیں کر سکتے۔مثلاً بلّی جو کہ دودھ کی بڑی حریص ہے جب اسے معلوم کہ اس کے نزدیک جانے سے سزا ملتی ہے یا پرندوں کو جب علم ہو کہ اگر یہ دانہ کھایا تو جال میں پھنسے اور موت آئی تو وہ اس دودھ اور دانہ کے نزدیک نہیں پھٹکتے۔اس کی وجہ صرف خوف ہے۔پس جبکہ لا یعقل حیوان بھی خوف کے ہوتے ہوئے پرہیز کرتے ہیں تو انسان جو عقلمند ہے اسے کس قدر خوف اور پرہیز کرنا چاہیے۔یہ اَمر بہت ہی بدیہی ہے کہ جس موقع پر انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے اس موقع پر وہ جرم کی جرأت ہرگز نہیں کرتا۔مثلاً طاعون زدہ گاؤں میں اگر کسی کو جانے کو کہا جاوے تو کوئی بھی جرأت کر کے نہیں جاتا حتی کہ اگر حکّام بھی حکم دیویں تو بھی ترسان اور لرزاں جاوے گا اور دل پر یہ ڈر غالب ہوگا کہ کہیں مجھ کو بھی طاعون نہ ہو جاوے اور وہ کوشش کرے گا کہ مفوّضہ کام کو جلد پورا کر کے وہاں سے بھاگے۔پس گناہ پر دلیری کی وجہ بھی خدا کے خوف کا دلوں میں موجود نہ ہونا ہے لیکن یہ خوف کیوںکر پیدا ہو۔اس کے لیے معرفتِ الٰہی کی ضرورت ہے۔جس قدر خدا تعالیٰ کی معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر خوف زیادہ ہوگا۔ع ہر کہ عارف تر است ترساں تر اس اَمر میں اصل معرفت ہے اور اس کا نتیجہ خوف ہے۔معرفت ایک ایسی شَے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے انسان ادنیٰ ادنیٰ کیڑوں سے بھی ڈرتا ہے۔جیسے پسو اور مچھر کی جب معرفت ہوتی ہے تو ہر ایک ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ خدا جو قادرِ مطلق ہے اور علیم اور بصیر ہے اور زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے اس کے احکام کے برخلاف کرنے میں یہ اس قدر جرأت کرتا ہے۔اگر سوچ کر دیکھو گے تومعلوم ہو گا کہ معرفت نہیں۔اللہ تعالیٰ کی معرفت طلب کرو بہت ہیں کہ زبان سے تو خدا کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹٹول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر دہریت ہے