ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 277

کو کوئی عارضہ ہو اور چاندی سونے کے برتن میں کھانا طبیب بتلاوے تو بطور علاج کے صحت تک وہ استعمال کر سکتا ہے۔ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اسے جوئیں بہت پڑی ہوئی تھیں۔آپؐنے حکم دیا کہ تو ریشم کا کرتہ پہنا کر اس سے جوئیں نہیں پڑتیں (ایسے ہی خارش والے کے لیے ریشم کا لباس مفید ہے)۔سُود سُود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبوریاں لاحقِ حال ہو جاتی ہیں۔فرمایا کہ اس کا فتویٰ ہم نہیں دے سکتے۔یہ بہرحال ناجائز ہے۔ایک طرح کا سُود اسلام میںجائز ہے یہ کہ قرض دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے تو مروّت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دیوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے۔اگر دس روپے قرض لیے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دے دیا کرتے۔سُود حرام وہی ہے جس میں عہد معاہدہ اور شرائط اوّل ہی کر لی جاویں۔۱ ۲۱؍اگست ۱۹۰۴ء (بمقام لاہور۔احاطہ میاں چراغ دین و سراج دین و معراج دین رئیسان لاہور) ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد احباب کی درخواست پر آپ ایک کرسی پر رونق افروز ہوئے۔میاں فیروز الدین صاحب نے آگے بڑھ کر نیاز حاصل کی۔حضرت اقدس نے چند نصائح فرماتے ہوئے تقریر کا سلسلہ یوں شروع کیا۔تمام گناہوں سے بچنے کا ذریعہ خوفِ الٰہی ہے دیکھو! یاد رکھنے کا مقام ہے کہ بیعت کے چند الفاظ جو زبان سے کہتے ہوکہ میں گناہ سے پرہیز کروں گا یہی تمہارے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ صرف ان کی تکرار سے خدا راضی ہوتا ہے بلکہ خدا کے نزدیک تمہاری اس وقت قدر ہوگی جبکہ دلوں میں تبدیلی اور خدا کا خوف لبدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۸