ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 276

خدا تعالیٰ تکلّفات کو پسند نہیں کرتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چند کھجوروں کی شاخوں کی تھی اور اسی طرح چلی آئی پھر حضرت عثمانؓنے اس لیے کہ ان کو عمارت کا شوق تھا اپنے زمانہ میں اسے پختہ بنوایا۔مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ حضرت سلیمانؑاور عثمانؓکا قافیہ خوب ملتا ہے۔شاید اسی مناسبت سے ان کو ان باتوں کا شوق تھا۔غرضیکہ جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہیے جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ کرے اور جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ سب مل کر اسی مسجد میں نماز باجماعت ادا کیا کریں۔جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے۔پراگندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہیے اور ادنیٰ ادنیٰ سی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے جو کہ پھوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔نفسِ لوّامہ مولوی تاج محمود صاحب ساکن لالیاں نے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کیا اور نماز میں سرور اور لذّت کے لیے دعا کی درخواست کی۔فرمایا کہ دعا کرتے رہو اور کراتے رہو۔ایک کارڈ روزانہ لکھ دیاکرو کہ دعا یاد آجایا کرے۔طبیعت پر جبر کر کے جو کام کیا جاتا ہے ثواب اسی کاہوتا ہے اور اسی کا نام نفسِ لوّامہ ہے کہ طبیعت آرام کرنا چاہتی ہے اور محبوبات نفسانی کی طرف کھچی جاتی ہے مگر وہ بزور اسے مغلوب کر کے خدا کے احکام کے ماتحت چلاتا ہے اس لیے اجر پاتا ہے۔ثواب کی حد نفسِ لوّامہ تک ہی ہے اور اسے ہی خدا نے پسند کیا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں قَسم بھی نفسِ لوّامہ کی ہی خدا نے کھائی ہے۔مطمئنّہ کی نہیں کھائی کیونکہ مطمئنّہ میں جاکر ثواب نہیں رہتا کیونکہ وہاں کوئی کشاکشی اور جنگ نہیں۔وہ تو امن کی حالت ہے۔سونے چاندی اور ریشم کا استعمال عرض کی گئی کہ چاندی وغیرہ کے بٹن استعمال کئے جاویں؟ فرمایا کہ۳،۴ ماشہ تک تو حرج نہیں، لیکن زیادہ کا استعمال منع ہے۔اصل میں سونا چاندی عورتوں کی زینت کے لیے جائز رکھا ہے۔ہاں علاج کے طور پر ان کا استعمال منع نہیں۔جیسے کسی شخص