ملفوظات (جلد 6) — Page 275
چاہیے کہ وہ کسی قسم کا تغیر اپنے ارادہ میں نہ کرے۔اس کو اس کی نیت کا اجر ملے گا اور دوسرا اپنی شرارت کی سزا پاوے گا۔دنیا میں لوگوں کو ایک یہ بھی بڑی غلطی لگی ہے کہ دوسرے سے مقابلہ کے وقت یا اس کی نیت میں فرق آتا دیکھ کر اپنی نیت کو جو خیر پرمبنی ہوتی ہے بدل دیا جاتا ہے۔اس طرح سے بجائے ثواب کے عذاب حاصل ہوتا ہے۔یاد رکھو کہ جوشخص خدا کے لیے نقصان روا نہیں رکھتا وہ عند اللہ کسی اجر کا بھی مستحق نہیں۔خدا کے لیے تو جان تک دریغ نہ کرنی چاہیے۔پھر زمین وغیرہ کیا شَے ہے۔جس قدر کوئی دکھ اٹھانے کے لیے تیار ہوگا اتنا ہی اسے ثواب ملے گا۔اگر کوئی شخص یہ اصول اختیار نہیں کرتا تو اس نے ابھی تک ہمارے سلسلہ کا مطلب اورمقصود ہی نہیں جانا۔جو لوگ اس جماعت میں داخل ہیں اگر وہ عام لوگوں کے سے اخلاق، مروّت اور ہمدردی برتتے ہیں تو ان میں اور دوسرے لوگوں سے کیا فرق ہوا۔شریر کی شرارت کو شریر کے حوالہ کرو اور اپنے نیک جوہر دکھاؤ تب تمیز ہوگی۔دنیاوی تنازعات کے وقت مالی نقصان برداشت کرنے اور جودِ نفس سے کام لینے کے سوا چارہ نہیں ہوا کرتا اور نہ انسان کو ہمیشہ اس قسم کے مواقع ہاتھ آتے ہیں کہ وہ فطرت کے یہ نیک جوہر دکھا سکے۔اس لیے اگر کوئی ایسا موقع ہاتھ آجاوے تو اسے غنیمت خیال کرنا چاہیے۔مساجد کی اہمیت اور برکات اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یاشہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہیے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا لیکن شرط یہ ہے کہ قیامِ مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔محض لِلہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہرگز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا۔یہ ضروری نہیں ہے کہ مسجد مرصّع اور پکی عمارت کی ہو بلکہ صرف زمین روک لینی چاہیے اور وہاں مسجد کی حد بندی کر دینی چاہیے اور بانس وغیرہ کا کوئی چھپر وغیرہ ڈال دو کہ بارش وغیرہ سے آرام ہو۔