ملفوظات (جلد 6) — Page 274
دعا کے آداب دعا کے لیے انسان کو اپنے خیال اور دل کو ٹٹولنا چاہیے کہ آیا اس کا میلان دنیا کی طرف ہے یا دین کی طرف یعنی کثرت سے وہ دعائیں دنیاوی آسائش کے لیے ہیں یا دین کی خدمت کے لیے۔پس اگر معلوم ہو کہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہوئے اسے دنیاوی افکار ہی لاحق ہیں اور دین مقصود نہیں تو اسے اپنی حالت پر رونا چاہیے۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ کمر باندھ کر حصول دنیا کے لیے مجاہدے اور ریاضتیں کرتے ہیں۔دعائیں بھی مانگتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طرح طرح کے امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔بعض مجنون ہوجاتے ہیں۔لیکن سب کچھ دین کے لیے ہو تو خدا ان کو کبھی ضائع نہ کرے۔قول اور عمل کی مثال دانہ کی ہے اگر کسی کو ایک دانہ دیا جاوے اور وہ اسے لے جا کر رکھ چھوڑے اور استعمال نہ کرے تو آخر اسے پڑے پڑے گھن لگ جاوے گا۔ایسے ہی اگر قول ہو اور اس پر عمل نہ ہو تو آہستہ آہستہ وہ قول بھی نہ رہے گا۔اس لیے اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہیے۔۱ ۹؍اگست ۱۹۰۴ء بمقام قادیان اپنی نیک نیت میں فرق نہ لاؤ بعض لوگوں کے ایک مسجد کے تنازعہ پر آپ نے فرمایا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ زیادہ بزرگ تم میں سے وہ ہے جو تقویٰ میں زیادہ ہے۔جیسے قرآن شریف میں ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات:۱۴) اور متقیوں کے صفات میں سے ہے کہ وہ بالغیب ایمان لاتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں اور مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ(البقرۃ:۴) یعنی علم، مال اور دوسرے قوائے ظاہری اور باطنی جو کچھ دیا ہے سب کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لیے خدا نے بڑے بڑے وعدے انعام کے کئے ہیں۔انسان ایک کارِ خیر کے لیے جب نیت کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ پھر اس میں کسی قسم کا فرق نہ لاوے اگر کوئی دوسرا جو اس میں حصّہ لینے والا تھا یا نہ تھا، مزاحم ہو اور بد دیانتی کرے تو بھی اوّل الذّکر کو چاہیے ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۶؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۳،۴