ملفوظات (جلد 6) — Page 273
ترقی کرتی جاتی ہے۔ابتدا میں ممکن ہے کہ غصّہ وغیرہ زیادہ ہو اس لیے نبی کی زندگی کا آخری حصّہ بہ نسبت پہلے کے بلحاظ اخلاق کے بہت ترقی یافتہ ہوتا ہے۔اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ ابتدا میں ان کے اخلاق عام لوگوں سے ترقی یافتہ نہیں ہوتے بلکہ یہ مراد ہے کہ اپنے دائرہ نبوت میں وہ آخری حصّہ عمر میں بہت مؤدّب ہوتے ہیں ورنہ ان کی ابتدائی زندگی کا حصّہ بھی اخلاق میں تو کُل لوگوں سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ نبی اگر شدائد اور مصائب سے امن میں رہے تو ان کی صبر کی قوت کا پتا لوگوںکو کیسے معلوم ہو۔پھر بہت سے اخلاقِ فاضلہ اس قسم کے ہیں کہ وہ صرف نزول مصائب پر ہی حاصل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا بڑا فضل و احسان تھا کہ آپؐکو دونوں موقع عطا کیے۔ہر ایک نبی کا یہ کام نہیںکہ وہ ہر ایک رتبہ کے لوگوں کو ایک کامل نمونہ اخلاق کا پیش کرسکے۔فقیر، غریب اور امیر وغیرہ ہر ایک اس کے چشمہ سے مساوی سیراب ہوں۔یہ صرف آنحضرتؐکی ہی ذات سے ہے جس نے کل ضرورتوں کو پورا کر کے دکھایا۔تعلیم کے ساتھ اُسوہ کی ضرورت فرقہ چکڑالوی نے بھی یہاں ہی ٹھوکر کھائی ہے۔اس نے یہ نہیں سمجھا کہ بغیر نمونہ کے دوسرا انسان اتباع کیسے پوری کر سکتا ہے۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ (اٰلِ عـمران:۳۲) کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک طبقہ کے انسان کو مخاطب کیا ہے کہ ہر ایک قسم کا سبق مجھ سے لو۔اور ظاہر ہے کہ جب تک ایک اُسوہ سامنے نہ ہو۔انسان عملدرآمد سے قاصر رہتا ہے۔ہر ایک قسم کے کمال کے حصول کے لیے نمونہ کی ضرورت ہے۔انسانی طبائع اسی قسم کی واقع ہوئی ہیں کہ وہ صرف قول سے مؤثر نہیں ہوتیں جب تک اس کے ساتھ فعل نہ ہو۔اگر صرف قول ہو تو صدہا اعتراض لوگ کرتے ہیں۔دین کی باتوں کو سن کر کہا کرتے ہیں کہ یہ سب باتیں کہنے کی ہیں کون ان کو بجا لا سکتا ہے۔یونہی بنا چھوڑی ہیں۔اور ان اعتراضوں کا ردّ نہیں ہوسکتا جب تک ایک انسان عمل کر کے دکھانے والا نہ ہو۔