ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 267

رہے تھے اور مولانا مولوی محمد احسن صاحب بوجہ علالت طبع نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ان کا خیال تھا کہ میں معذور ہوں الگ پڑھ لوں مگر چند ایک احباب ان کے پیچھے مقتدی بن گئے اور جماعت ہوگئی۔جب حضرت اقدس کو علم ہوا کہ ایک جماعت ہوچکی ہے اور اب دوسری ہونے والی ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ایک مقام پر دو جماعتیں ہرگز نہ ہونی چاہئیں۔(۲) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور اقدس اپنی کوٹھڑی میں تھے اور ساتھ ہی کوٹھڑی میں نماز ہونے لگی۔آدمی تھوڑے تھے۔ایک ہی کوٹھڑی میں جماعت ہو سکتی تھی۔بعض احباب نے خیال کیاکہ شاید حضرت اقدس اپنی کوٹھڑی میں ہی نماز ادا کر لیں گے، کیونکہ امام کی آواز وہاں پہنچتی ہے۔اس پر آپؑنے فرمایا کہ جماعت کے ٹکڑے الگ الگ نہ ہونے چاہئیں بلکہ اکٹھی پڑھنی چاہیے۔ہم بھی وہاں ہی پڑھیں گے یہ اس صورت میں ہونا چاہیے جبکہ جگہ کی قلّت ہو۔(۳) ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب گورداسپور میں مقیم تھے اور احمدی جماعت نزیل قادیان بہ باعث سفر میں ہونے کے نماز جمع۱ کر کے ادا کرتی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے مسئلہ پوچھا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ مقیم پوری نماز ادا کریں۔وہ اس طرح ہوتی رہی کہ جماعت کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نماز ادا کرتے۔جماعت دو رکعت ادا کرتی لیکن ڈاکٹر صاحب باقی کی دو رکعت بعد از جماعت ادا کر لیتے۔ایک دفعہ حضرت اقدس نے دیکھ کر کہ ڈاکٹرصاحب نے ابھی دو رکعت ادا کرنی ہے فرمایاکہ ٹھہر جاؤ۔ڈاکٹر صاحب دو رکعت ادا کر لیویں۔پھر اس کے بعد جماعت دوسری نماز کی ہوئی۔ایسی حالت جمع میں سنّت اور نوافل نہیں ادا کیے جاتے۔(۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے۔آپ نے پانی مانگا۔جب پانی آیا تو اسے سہو ہے اصل میں ’’قصر ‘‘ ہو نا چاہیے۔(مرتّب)