ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 264

اور ثواب سے بھی محروم رہا۔سلسلہ کا مستقبل مجھے بڑے ہی کشف صحیح سے معلوم ہوا ہے کہ ملوک بھی اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔یہاں تک کہ وہ ملوک مجھے دکھائے بھی گئے ہیں۔وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تجھے یہاں تک برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اللہ تعالیٰ ایک زمانہ کے بعد ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کو داخل کرے گا اور پھر ان کے ساتھ ایک دنیا اس طرف رجوع کرے گی۔۱ آدابِ دعا دعا میں جس قدر بیہودگی ہوتی ہے اسی قدر اثر کم ہوتا ہے۔یعنی اس کی استجابت ضروری نہیں سمجھی جاتی۔مثلاً ایک شخص ہے کہ اس کا گذارہ ایک دو روپیہ روزانہ میں بخوبی چل سکتا ہے لیکن وہ پچاس روپیہ روزانہ طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا سوال بیہودہ ہوگا۔یہ ضروری اَمر ہے کہ ضرورتِ حقّہ اللہ تعالیٰ کے آگے پیش کی جاوے۔جب کسی کی مصیبت کا خط آتا ہے اور اس میں دعا کی درخواست ہوتی ہے تو دیکھا گیا ہے کہ دل خوب لگ کر دعا کرتا ہے لیکن دوسری بیہودہ درخواستوں میں اس قدر دل نہیں لگتا۔عام لوگ جو آجکل دفع طاعون کے لیے دعا مانگتے ہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی ذات کو منوانا چاہتا ہے۔نری دعا سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے جب تک کہ عقائد کی اصلاح نہ ہو۔ایسی دعائیں کیا بُت پرست نہیں مانگتے پھر اُن میں اور اِن میں فرق کیا ہوا؟ بلکہ مجھے خیال آتا ہےکہ وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ(البقرۃ:۱۸۷) کے یہی معنے ہیںکہ اگر سوال ہو کہ خد اکا علم کیوںکر ہوا تو جواب یہ ہے کہ اسلام کا خدا بہت قریب ہے۔اگر کوئی اسے سچے دل سے بلاتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے۔دوسرے فرقوں کے خدا قریب نہیں ہیں بلکہ اس قدر دور ہیں کہ ان کا پتا ہی ندارد۔اعلیٰ سے اعلیٰ غرض عابد اور پرستار کی یہی ہے کہ اس کا قرب حاصل ہو اور یہی ذریعہ ہے جس سے اس کی ہستی پر یقین حاصل ہوتا ہے۔اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ(البقرۃ:۱۸۷) لحکم جلد ۸ نمبر ۲۵،۲۶ مورخہ ۳۱؍جولائی ،۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳