ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 263

چاہیے کہ اس اعتراض کا جواب دیا اور دکھایا جاوے۔مرکز میں آنے کی اصل غرض دین ہو ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ میں تجارت کے لیے یہاں آنا چاہتا ہوں۔فرمایا۔یہ نیت ہی فاسد ہے اس سے توبہ کرنی چاہیے۔یہاں تو دین کے واسطے آنا چاہیے اور اصلاح عاقبت کے خیال سے یہاں رہنا چاہیے۔نیت تو یہی ہو اور اگر پھر اس کے ساتھ کوئی تجارت وغیرہ یہاں رہنے کے اغراض کو پورا کرنے کے لیے ہو تو حرج نہیں ہے۔اصل مقصد دین ہو نہ دنیا۔کیا تجارتوں کے لیے شہر موزوں نہیں؟ یہاں آنے کی اصل غرض کبھی دین کے سوا اور نہ ہو۔پھر جو کچھ حاصل ہو جاوے وہ خدا کا فضل سمجھو۔ہمدردی خلائق بنی نوع انسان کی ہمدردی خصوصاً اپنے بھائیوں کی ہمدردی اور حمایت پر نصیحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں۔میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔اگر تم کچھ بھی اس کے لیے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔اپنے تو درکنار میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو۔لا اُبالی مزاج ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ایک مرتبہ میں باہر سیر کو جا رہا تھا۔ایک پٹواری عبد الکریم میرے ساتھ تھا۔وہ ذرا آگے تھا اور میں پیچھے۔راستہ میں ایک بڑھیا کوئی ۷۰ یا ۷۵ برس کی ضعیفہ ملی۔اس نے ایک خط اسے پڑھنے کو کہا مگر اس نے اس کو جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔میرے دل پر چوٹ سی لگی۔اس نے وہ خط مجھے دیا۔میں اس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا اس پر اسے بہت شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا