ملفوظات (جلد 6) — Page 251
وجودی فرقہ کی بِنا اس کے بعد فرمایا کہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجودی پیدا کہاں سے ہوئے۔قرآن شریف اور اسلام میں تو ان کا پتا نہیںملتا مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو صرف دھوکا لگا ہوا ہے۔جو راست باز اکابر گذرے ہیں وہ اصل میں فنائے نظری کے قائل تھے۔اس کے یہ معنے ہیںکہ انسان ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون میں توجہ اللہ کی طرف رکھے اور اس قدر فانی اس میں ہو کہ گویا اور کسی شَے کی قدرت اور حرکت بذاتہ ٖ اسے نظر نہ آوے۔ہر ایک شَے کو فانی جان لے اور اس قدر تصرّفِ الٰہی اسے نظر آوے کہ بِلا ارادہ الٰہی کے اور کچھ نہیں ہو رہا۔اسی مسئلہ میں غلطی واقع ہو کر آخر فنا وجودی تک نوبت آگئی اور یہ کہنے لگے کہ سوائے خدا کے اور کوئی شَے نہیں ہے اپنے آپ کو بھی خدا ماننے لگے۔اس خیال سے یہ مذہب پھیلا ہے کہ فناءِ نظری کے شوق میں اولیاء اللہ سے کچھ ایسے کلمات نکلے ہیں کہ جن کی الٹی تاویل کر کے یہ وجودی فرقہ بن گیا ہے۔فناءِ نظری تک انسان کا حق ہے کہ محبوب میں اور اپنے آپ میں کوئی جدائی نہ سمجھے اور ؎ من تو شدم تو من شدی۔من تن شدم تو جاں شدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری کا مصداق ہو کیونکہ محبّ اور محبوب کا علاقہ فناءِ نظری کا تقاضا کرتا ہے اور یہ ہر ایک سالک کی راہ میں ہے کہ وہ محبوب کے وجود کو اپنا وجود جانتا ہے لیکن فنا وجودی ایک من گھڑت بات ہے جیسے ذوق و شوق ، محبت صدق اور وفا اور اعمال صالحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فناءِ نظری کی مثال وہی ہے جو ماں اور بچے کی ہے کہ اگر کوئی بچے کو مکی مارے تو درد ماں کو ہوتا ہے۔سخت تعلق جومحبت کا ہے یہ اس سے بھی درد ناک ہے اور یہ ایک سچی اور حقیقی محبت ہوتی ہے لیکن وجودی کا مدّعا جھوٹا ہے یہ وہ کرے جو خدا پر محیط ہو۔وجودی چونکہ ترکِ ادب کا طریق اختیار کرتا ہے اس لیے طاعت، محبت، عبادتِ الٰہی سے محروم رہتا ہے۔۱ ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۲۷مورخہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۴ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵،۲۶ مورخہ ۳۱؍جولائی و ۱۰؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۱