ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 249

خوبصورت ہیں۔اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔یہ رؤیا کوئی ۲۵ برس کا ہوگا۔۱ رجوع کا صحیح وقت نزولِ بَلا سے پہلے ہوتا ہے عادت اللہ یہی ہے کہ جب انسان امن کے زمانہ میں ہو اور وہ گذر جاوے اور اس اثنا میں کوئی رجوع خدا کی طرف حقیقی اور اخلاص سے نہ کیا ہو تو پھر خطرناک زمانہ میں واویلا شور مچانا اس کے کام نہیں آیا کرتے۔یہ تو وہی فرعون کی مثال ہوئی کہ جب ڈوبنے لگا تو کہا کہ اب میں موسیٰ اور ہارون کے خدا پر ایمان لایا۔مشکل یہ ہے کہ دنیا داروں کو ان کے اپنے سلسلوں اور پیچ در پیچ معاملات سے ہرگز فرصت نہیں ہے کہ وہ روح کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور خدا کا خوف بھی محسوس کریں۔اگر کچھ خوف ہے تو گورنمنٹ کا اور امید ہے تو اسباب سے یا اپنے مکر و فریب سے۔اس زمانہ میں جو توکّل کا نام لے وہ دیوانہ اور مخبوطُ الحواس ہے۔اس کا نام مسلوبُ العقل رکھا جاتا ہے۔یہ انسان کی خوش قسمتی ہے کہ قبل از نزولِ بَلا وہ تبدیلی کر لے لیکن اگر کوئی تبدیلی نہیں کرتا اور اس کی نظر اسباب اور مکر و حیلہ پر ہے تو سوائے اس کے کہ وہ اپنے ساتھ گھر بھر کو تباہ کر دے اور کیا انجام بھوگ سکتا ہے کیونکہ مرد گھر کا کشتی بان ہوتا ہے اگر وہ ڈوبے گا تو کشتی بھی ساتھ ہی ڈوبے گی۔اسی لیے کہا اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (النّسآء:۳۵) اسی کی رَستگاری کے ساتھ اس کے اہل و عیال کی رَستگاری ہے اور وَلَا يَخَافُ عُقْبٰهَا(الشّمس: ۱۶) سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان کے پسماندوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔اس وقت اس کی بے نیازی کام کرتی ہے۔۲ ۱ الحکم سے۔’’اس سلسلہ کی بنیاد سے پہلے میں نے دیکھا۔جب مرزا صاحب فوت ہوئے ہیں۔میں اصل مکان موجودہ سلطان احمد والے میں ایک دالان میں بیٹھا ہوں۔مغربی کوٹھڑی سے ایک برقع پوش عورت نکلی اور مجھے کہنے لگی۔میں اس گھر سے جانے کو تھی مگر تیرے واسطے رہ گئی۔جوان عورت اگر خواب میں دیکھی جاوے تو اس سے مراد دنیا کے اقبال اور فتوحات ہوتے ہیں خواہ کسی قوم کی ہو۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲) ۲البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳،۴