ملفوظات (جلد 6) — Page 248
جناب کو اس قسم کا الہام ہوا کہ تقدیر مبرم ہے اور موت مقدر ہے۔لیکن پھر حضور کی شفاعت سے وہ تقدیر مبرم ٹل گئی۔آپ نے فرمایا کہ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی لکھتے ہیں کہ بعض وقت میری دعا سے تقدیر مبرم ٹل گئی ہے۔اس پر شارح شیخ عبد الحق محدث دہلی نے اعتراض کیا ہے کہ تقدیر مبرم تو ٹل نہیں سکتی پھر اس کے کیا معنے ہوئے۔آخر خود ہی جواب دیا ہے کہ تقدیر مبرم کی دو اقسام ہیں ایک مبرم حقیقی اور ایک مبرم غیرحقیقی۔جو مبرم حقیقی ہے وہ تو کسی صورت سے ٹل نہیں سکتی ہے جیسے کہ انسان پر موت تو آتی ہے۔اب اگر کوئی چاہے کہ اس پر موت نہ آوے اور یہ قیامت تک زندہ رہے تو یہ نہیں ٹل سکتی۔دوسری غیر حقیقی وہ ہے جس میں مشکلات اور مصائب انتہائی درجہ تک پہنچ چکے ہوں اور قریب قریب نہ ٹلنے کے نظر آویں۔اس کا نام مجازی طور پر مبرم رکھا گیا ہے ورنہ حقیقی مبرم تو ایسی ہے کہ اگر کُل انبیاء بھی مل کر دعا کریں کہ وہ ٹل جاوے تو وہ ہرگز نہیں ٹل سکتی۔فرمایا کہ صبح کو یہ فقرہ الہام ہوا۔’’خدا تیری ساری مرادیں پوری کر دے گا۔‘‘ رؤیا میں فرشتے دیکھنا فرشتوں پر ذکر چل پڑا کہ یہ خواب میں ہمیشہ خوبصورت لڑکوں کی صورت و شکل میں نظر آتے ہیں۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے چند ایک سابقہ رؤیا بیان فرمائے جن کو ہم اس نیت سے درج کر دیتے ہیں کہ ان میں سے اگر کوئی شائع نہیں ہوا تو اب ہو جائے۔(۱)۔ایک فرشتہ ایک چبوترہ پر بیٹھا ہے اور ایک عجیب روٹی نان کی مثل چمکتی ہوئی اس کے ہاتھ میں ہے۔وہ روٹی بہت ہی عمدہ اور اعلیٰ قسم کی نظر آتی ہے۔مجھے وہ روٹی دے کر کہتا ہے کہ یہ تمہارے لیے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کے لیے ہے۔اس رؤیا کو عرصہ قریباً ۳۰ سال کا ہوگیا ہوگا۔(۲) فرمایا۔ایک فرشتہ کو میں نے ۲۰ برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی